کسی معاشرے کی ترقی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ وہاں کتنی نئی عمارتیں تعمیر ہوئیں، کتنی سڑکیں بنیں یا کتنے نئے رہائشی و تجارتی علاقے وجود میں آئے۔ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں تعمیر کے ساتھ انسانی جان، املاک، ماحول اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہو۔
بدقسمتی سے پاکستان کے مختلف علاقوں اور بالخصوص گلگت بلتستان میں نجی شعبے میں تیزی سے پھیلتی ہوئی تعمیرات کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی دکھائی دیتا ہے جس میں بعض تعمیرات مناسب انجینئرنگ ڈیزائن، منظور شدہ نقشے، متعلقہ تعمیراتی ضوابط، مستند انجینئر اور پیشہ ورانہ مشاورتی خدمات کے بغیر شروع یا مکمل کردی جاتی ہیں۔
یہ معاملہ محض نقشے یا اجازت نامے کی خلاف ورزی نہیں۔ یہ انسانی جانوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔
گلگت بلتستان جیسے پہاڑی خطے میں جہاں زلزلہ، پہاڑی تودے گرنا، شدید بارش، اچانک سیلاب، دریائی طغیانی اور برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOF: Glacial Lake Outburst Flood) جیسے خطرات موجود ہیں، وہاں غیر سائنسی اور غیر پیشہ ورانہ تعمیرات مستقبل کے کسی بڑے سانحے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ قومی قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے (NDMA: National Disaster Management Authority) کی متعلقہ دستاویزات بھی گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کو متعدد قدرتی خطرات کے حوالے سے حساس قرار دیتی ہیں اور محفوظ و لچک دار بنیادی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
مسئلہ عمارت کا نہیں، تعمیراتی نظام کا ہے
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک عمارت صرف اینٹ، پتھر، سیمنٹ اور سریے کا مجموعہ نہیں ہوتی۔ ایک محفوظ عمارت دراصل زمین کے مطالعے، ساختی انجینئرنگ، تعمیراتی ضوابط، معیاری مواد، درست کاریگری، تکنیکی نگرانی اور باقاعدہ معائنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔
بنیاد کہاں اور کتنی گہری ہو؟ زمین کی برداشت کتنی ہے؟ ستونوں اور شہتیروں کا حجم اور ترتیب کیا ہو؟ سریے کی مقدار اور تفصیل کیا ہو؟ کنکریٹ کا معیار کیا ہو؟ عمارت زلزلے کے جھٹکوں کو کس طرح برداشت کرے؟ بارش اور سیلابی پانی کا اخراج کہاں سے ہوگا؟ عمارت کی جگہ پہاڑی تودے گرنے یا سیلابی راستے سے کتنی محفوظ ہے؟
یہ فیصلے محض مستری کے تجربے، ٹھیکیدار کی صوابدید یا مالک مکان کے اندازے سے نہیں کیے جاسکتے۔ ان کے لیے متعلقہ پیشہ ورانہ مہارت اور انجینئرنگ کی ضرورت ہے۔
پاکستان انجینئرنگ کونسل کے پاکستان تعمیراتی ضابطہ 2021 (Building Code of Pakistan 2021) کا مقصد ہی عمارتوں اور ساختی کاموں کے لیے کم از کم حفاظتی تقاضے مقرر کرنا ہے، اور اس میں واضح طور پر انتظامیہ، نفاذ، ڈیزائن کے ماہرین، ٹھیکیدار اور جائیداد کے مالک کی ذمہ داریوں کے لیے انتظامی ڈھانچا موجود ہے۔
گلگت بلتستان میں احتیاط کی ضرورت دوچند کیوں ہے؟
گلگت بلتستان کی جغرافیائی ساخت اسے عام شہری علاقوں سے مختلف بناتی ہے۔ یہاں پہاڑی ڈھلوانیں، ندی نالے، دریا، گلیشیئرز، برفانی جھیلیں اور محدود وادیاں موجود ہیں۔ چنانچہ کسی جگہ پر غلط تعمیر صرف ایک مکان کے لیے مسئلہ نہیں بنتی بلکہ پوری آبادی کے لیے خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔
ایک غلط مقام پر تعمیر کیا گیا مکان سیلابی راستہ روک سکتا ہے۔ کمزور روک دیوار (retaining wall) پورے ڈھلوانی حصے کو متاثر کرسکتی ہے۔ غلط بنیاد زلزلے میں عمارت کی کارکردگی کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔ غیر معیاری تعمیراتی مواد معمول کے حالات میں بظاہر ٹھیک دکھائی دے سکتا ہے، مگر شدید قدرتی آفت کے وقت اپنی کمزوری ظاہر کرسکتا ہے۔
اسی لیے گلگت بلتستان میں "تعمیر ہو گئی" کو "تعمیر محفوظ ہے" کا مترادف سمجھنا خطرناک ہے۔
---
ایک جامع تعمیراتی پالیسی کی ضرورت
اب وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت تعمیرات کو محض بلدیاتی اجازت ناموں کا معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے عوامی تحفظ (Public Safety) اور آفات کے خطرات میں کمی (Disaster Risk Reduction) کے بنیادی حصے کے طور پر دیکھے۔
قومی قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کی قومی آفات کے خطرات میں کمی کی حکمتِ عملی 2025–2030 (National Disaster Risk Reduction Strategy 2025–2030) بھی قدرتی خطرات کے مقابلے میں پیشگی منصوبہ بندی، لچک دار بنیادی ڈھانچے، مؤثر حکمرانی اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتی ہے۔
لہٰذا گلگت بلتستان میں ایک جامع "محفوظ اور لچک دار تعمیرات کی پالیسی" (Safe and Resilient Construction Policy) مرتب کی جانی چاہیے، جس کا اطلاق سرکاری اور نجی دونوں شعبوں پر یکساں ہو۔
1۔ گلگت بلتستان تعمیراتی تحفظ و نگرانی کا قانون
حکومت کو ایک جامع قانون متعارف کرانا چاہیے جس کے تحت:
- ہر نئی عمارت کے لیے قانونی منظوری لازم ہو؛ - رہائشی، تجارتی، صنعتی، تعلیمی، طبی اور سرکاری عمارتوں کے لیے واضح تقاضے مقرر ہوں؛ - تعمیر میں پاکستان تعمیراتی ضابطہ اور متعلقہ منظور شدہ تکنیکی معیارات کو قانونی حیثیت دی جائے؛ - زلزلہ، سیلاب، برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والا سیلاب، پہاڑی تودے گرنے اور دیگر مقامی خطرات کو ڈیزائن میں شامل کرنا لازم ہو؛ - بغیر منظوری تعمیر شروع کرنے پر مؤثر قانونی کارروائی ہو؛ - غیر محفوظ تعمیر کو صرف جرمانہ ادا کرکے جاری رکھنے کی اجازت نہ دی جائے؛ - خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق تعمیر روکنے، اصلاح، جرمانے اور ضرورت پڑنے پر انہدام تک کے اختیارات موجود ہوں۔
قانون کا بنیادی اصول واضح ہونا چاہیے:
"ہر تعمیر کا حق، محفوظ تعمیر کی ذمہ داری کے ساتھ مشروط ہوگا۔"
---
2۔ مستند انجینئر اور مشیر کے بغیر تعمیر کی اجازت نہ ہو
عام نوعیت کی معمولی مرمت اور قانون میں متعین مستثنیٰ کاموں کو الگ رکھتے ہوئے نئی عمارت کے لیے:
نقشہ سازی + ساختی ڈیزائن + مقام کا جائزہ + پیشہ ورانہ تصدیق
(Architectural Design + Structural Design + Site Assessment + Professional Certification)
کو منظوری کے بنیادی حصے کے طور پر مقرر کیا جائے۔
مالک مکان کو یہ اختیار ضرور حاصل ہو کہ وہ اپنے منصوبے کے لیے مستند ماہر منتخب کرے، مگر حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ جس شخص کے نام پر انجینئرنگ ڈیزائن منظور کیا جارہا ہے وہ متعلقہ پیشہ ورانہ معیار اور قانونی رجسٹریشن پر پورا اترتا ہو۔
اس نظام میں "نام کا انجینئر" یا صرف کاغذ پر دستخط کرنے والے شخص کے بجائے حقیقی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا اصول نافذ ہونا چاہیے۔
---
3۔ سرکاری تعمیرات کے لیے بھی وہی قانون
قانون کا سب سے اہم اصول برابری ہونا چاہیے۔
جو ضابطہ ایک عام شہری کے مکان پر لاگو ہو، بنیادی حفاظتی تقاضوں کے اعتبار سے وہی اصول سرکاری عمارت پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
اس لیے تمام سرکاری محکموں، ترقیاتی اداروں، بلدیاتی اداروں، سرکاری رہائشی منصوبوں، اسکولوں، ہسپتالوں، پلوں، دفاتر اور دیگر عوامی منصوبوں کے لیے:
ڈیزائن کا جائزہ → منظوری → تعمیراتی نگرانی → معیار کا کنٹرول → تکمیل کا معائنہ → استعمال کا اجازت نامہ
(Design Review → Approval → Site Supervision → Quality Control → Completion Inspection → Occupancy Certificate)
کا مکمل نظام لازمی کیا جائے۔
کوئی سرکاری محکمہ صرف اس بنیاد پر تعمیراتی ضابطے سے مستثنیٰ نہ ہو کہ منصوبہ سرکاری ہے۔
---
4۔ "تعمیراتی اجازت نامے" کو محض کاغذ نہیں، تکنیکی منظوری بنایا جائے
تعمیراتی اجازت کا موجودہ تصور اگر صرف نقشہ جمع کرانے اور فیس ادا کرنے تک محدود ہو تو اس سے مطلوبہ تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔
ایک مؤثر نظام میں منظوری سے پہلے کم از کم درج ذیل امور دیکھے جائیں:
زمین کی نوعیت — مقام کا خطرہ — زون بندی — سیلابی خطرہ — نکاسیِ آب — سڑک تک رسائی — بنیادی ڈیزائن — ساختی ڈیزائن — زلزلہ مزاحمت — آتش زدگی سے تحفظ — ہنگامی اخراج۔
حساس مقامات کے لیے ضرورت کے مطابق ارضیاتی و جیوٹیکنیکل تحقیق (geotechnical investigation) اور دیگر تکنیکی مطالعات بھی لازم کیے جائیں۔
---
5۔ خطراتی زون بندی کے نقشوں کو تعمیراتی اجازت سے جوڑا جائے
گلگت بلتستان کے ہر بڑے شہر اور قصبے کے لیے کثیر خطراتی زون بندی کے نقشے (Multi-Hazard Zoning Maps) تیار کیے جائیں۔
ان نقشوں میں کم از کم:
- زلزلہ جاتی خطرات؛ - سیلابی علاقے؛ - ندی نالوں اور قدرتی نکاسیِ آب کے راستے؛ - برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرات؛ - پہاڑی تودے گرنے کے ممکنہ علاقے؛ - غیر مستحکم ڈھلوانیں؛ - دریا کے حساس کنارے؛ - ہنگامی انخلا کے راستے؛
کی نشاندہی کی جائے۔
اس کے بعد تعمیراتی اجازت نامے کا نظام ان نقشوں سے منسلک کیا جائے۔
یعنی اگر کوئی جگہ خطرناک زون میں واقع ہے تو وہاں صرف یہ دیکھنا کافی نہ ہو کہ مالک کے پاس زمین کا قانونی حق ہے؛ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس جگہ پر کس نوعیت کی تعمیر محفوظ اور قانونی طور پر قابلِ قبول ہے۔
---
6۔ ہر تعمیر کے اہم مراحل پر موقع پر معائنہ
تعمیر مکمل ہونے کے بعد معائنہ کرنا کافی نہیں۔
سرکاری یا مجاز تکنیکی ادارے کو تعمیر کے اہم مراحل پر معائنے کا اختیار اور ذمہ داری دی جائے، مثلاً:
بنیاد → سریے کی تنصیب → ساختی ڈھانچا → چھت → خدماتی نظام → حتمی معائنہ
ہر مرحلے کے معائنے کو ڈیجیٹل ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔
اگر کسی اہم مرحلے پر منظور شدہ ڈیزائن سے انحراف ہو تو اگلے مرحلے کی اجازت روک دی جائے۔
---
7۔ "تکمیل کا سرٹیفکیٹ" کے بغیر عمارت استعمال نہ ہو
تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایک باقاعدہ تکمیل و استعمال کا اجازت نامہ (Completion / Occupancy Certificate) جاری کیا جائے۔
اس کے بغیر:
- نئی عمارت کو مستقل طور پر آباد کرنا؛ - تجارتی استعمال شروع کرنا؛ - سرکاری ادارے منتقل کرنا؛ - عوامی اجتماع کے لیے استعمال کرنا؛
قانوناً ممنوع ہو۔
یہ سرٹیفکیٹ صرف کاغذی کارروائی نہ ہو بلکہ اس بات کی تصدیق ہو کہ منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق تعمیر ہوئی اور متعلقہ معائنہ مکمل کیا گیا ہے۔
---
8۔ پرانی عمارتوں کا ساختی تحفظ کا جائزہ
مسئلہ صرف نئی تعمیرات کا نہیں۔
شہروں میں پہلے سے موجود ایسی عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں جو پرانے معیار کے مطابق بنی ہوں، جن میں بعد میں غیر قانونی تبدیلیاں کی گئی ہوں یا جن کی ساختی حالت وقت کے ساتھ متاثر ہوئی ہو۔
اس لیے حکومت کو مرحلہ وار:
موجودہ عمارتوں کے تحفظ کے جائزے کا پروگرام
(Existing Building Safety Audit Programme)
شروع کرنا چاہیے۔
خصوصاً:
- اسکول؛ - ہسپتال؛ - سرکاری دفاتر؛ - مارکیٹس؛ - ہوٹل؛ - عوامی اجتماعات کی عمارتیں؛ - بلند عمارتیں؛ - دریا یا ندی کے قریب عمارتیں؛ - حساس ڈھلوانوں پر قائم عمارتیں؛
کا تکنیکی جائزہ لیا جائے۔
---
9۔ غیر قانونی تعمیر کے خلاف تین سطحی کارروائی
صرف جرمانہ غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کے لیے کافی نہیں۔
ایک مؤثر نفاذی نظام (enforcement mechanism) میں تین سطحیں ہونی چاہئیں:
پہلی سطح: اطلاع اور اصلاح
(Notice and Correction)
غلطی کی نشاندہی، تعمیر روکنا اور مقررہ مدت میں اصلاح کا موقع۔
دوسری سطح: جرمانہ اور تعمیراتی کام کی معطلی
(Penalty and Stop-Work)
سنگین خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانہ اور تعمیراتی سرگرمی کی معطلی۔
تیسری سطح: انہدام یا قانونی کارروائی
(Demolition / Legal Action)
ایسی تعمیر جو انسانی جان کے لیے سنگین خطرہ ہو یا ناقابلِ اصلاح خلاف ورزی پر قائم ہو، اسے قانون کے مطابق ختم کرنے یا دیگر مناسب قانونی کارروائی کا اختیار۔
مگر اس پورے نظام میں شفاف اپیل کا حق، تحریری وجوہات اور قانونی طریقۂ کار (due process) بھی لازمی ہونا چاہیے تاکہ قانون صوابدیدی کارروائی کا ذریعہ نہ بنے۔
---
10۔ انجینئر، مشیر اور ٹھیکیدار کی پیشہ ورانہ ذمہ داری
صرف مالک کو ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔
اگر کسی انجینئر، مشیر یا ٹھیکیدار نے جان بوجھ کر منظور شدہ ڈیزائن سے انحراف کیا، ناقص مواد استعمال کیا، جعلی سرٹیفکیٹ دیا یا ایسی تعمیر کی منظوری دی جو واضح طور پر حفاظتی معیار پر پوری نہ اترتی ہو تو اس کے خلاف بھی پیشہ ورانہ اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
اسی طرح جو شخص صرف فیس لے کر بغیر معائنہ یا حقیقی ذمہ داری کے سرٹیفکیٹ جاری کرے، اس کے خلاف بھی مؤثر نظام ہونا چاہیے۔
---
11۔ تعمیراتی مواد کا معیار پر قابو
صرف ڈیزائن کافی نہیں؛ ناقص مواد پوری انجینئرنگ کو ناکام بنا سکتا ہے۔
حکومت کو تعمیراتی مواد کے معیار کی یقین دہانی کے لیے باقاعدہ نظام قائم کرنا چاہیے، جس میں ضرورت کے مطابق:
کنکریٹ کی جانچ، فولاد کی جانچ، مواد کی تصدیق اور تعمیراتی مقام کے معیار کے ریکارڈ
(Concrete Testing، Steel Testing، Material Certification اور Site Quality Records)
شامل ہوں۔
بڑے منصوبوں کے لیے آزاد تیسرے فریق سے جانچ (independent third-party testing) کو لازمی کیا جاسکتا ہے۔
---
12۔ تعمیراتی اجازت کا ڈیجیٹل نظام
گلگت بلتستان میں مرحلہ وار ایک ڈیجیٹل تعمیراتی نگرانی کا نظام (Digital Building Control System) قائم کیا جانا چاہیے۔
ہر عمارت کو ایک منفرد عمارت شناختی نمبر (Building Identification Number) دیا جائے اور اس کے ساتھ:
- ملکیت کی بنیادی معلومات؛ - منظور شدہ نقشہ؛ - ساختی نقشے؛ - متعلقہ انجینئر/مشیر کی تفصیلات؛ - تعمیراتی اجازت نامہ؛ - معائنے کی رپورٹس؛ - تکمیل کا سرٹیفکیٹ؛ - بعد کی ساختی تبدیلیاں؛
کا ریکارڈ منسلک کیا جائے۔
اس سے ریکارڈ میں شفافیت آئے گی اور مستقبل میں یہ معلوم کرنا بھی ممکن ہوگا کہ کسی عمارت کی منظوری کس بنیاد پر ہوئی اور تعمیر کے دوران کن معیارات کی پابندی کی گئی۔
---
13۔ ایک بااختیار "تعمیراتی نگرانی و تحفظ کا ادارہ"
متعدد محکموں میں ذمہ داری تقسیم ہونے سے اکثر نفاذ کمزور ہوجاتا ہے۔
اس لیے حکومت کو ایک مرکزی یا مؤثر مربوط گلگت بلتستان تعمیراتی نگرانی و تحفظ کا ادارہ (Gilgit-Baltistan Building Control & Safety Authority) قائم کرنے یا موجودہ ادارہ جاتی نظام کی مضبوط تنظیمِ نو پر غور کرنا چاہیے۔
اس کے اندر کم از کم:
ساختی انجینئرنگ، فنِ تعمیر، شہری منصوبہ بندی، ارضیاتی انجینئرنگ، آفات کے خطرات میں کمی، آتش زدگی سے تحفظ، ماحولیاتی منصوبہ بندی اور عمارتوں کے معائنے
(Structural Engineering، Architecture، Town Planning، Geotechnical Engineering، Disaster Risk Reduction، Fire Safety، Environmental Planning اور Building Inspection)
کی تکنیکی صلاحیت موجود ہو۔
یہ ادارہ متعلقہ بلدیاتی اور ضلعی اداروں کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرے۔
---
14۔ عوامی شکایت اور اطلاع دہندہ کا نظام
اگر کوئی شہری دیکھے کہ خطرناک مقام پر غیر قانونی تعمیر ہورہی ہے تو اسے شکایت کے لیے آسان اور محفوظ نظام فراہم کیا جائے۔
ایک:
آن لائن شکایتی مرکز + موبائل ایپ + ہیلپ لائن
(Online Complaint Portal + Mobile App + Helpline)
قائم کیا جاسکتا ہے جہاں تصویر، مقام اور بنیادی معلومات کے ساتھ شکایت درج ہوسکے۔
شکایت پر کارروائی کی صورتِ حال بھی آن لائن دستیاب ہو۔
اس نظام کا مقصد کسی شخص کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ خطرناک تعمیر کو بروقت روکنا ہونا چاہیے۔
---
15۔ نجی شعبے کو دشمن نہیں، شریک بنایا جائے
تعمیراتی قوانین کا مقصد تعمیرات روکنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ بنانا ہے۔
اس لیے حکومت کو انجینئرز، ماہرینِ تعمیر، مشیروں، ٹھیکیداروں، ڈویلپرز، جائیداد کے مالکان، ایوان ہائے صنعت و تجارت، مقامی حکومتوں اور یونیورسٹیوں کو ایک مشترکہ شراکت دارانہ ڈھانچے میں شامل کرنا چاہیے۔
مستند نجی مشاورتی اور انجینئرنگ اداروں کے لیے واضح رجسٹریشن، پیشہ ورانہ معیارات اور جواب دہی کا نظام بنایا جائے۔
یوں نجی شعبہ حکومتی نظام کا بوجھ نہیں بلکہ محفوظ تعمیرات کے پروگرام کا شراکت دار بن سکتا ہے۔
---
16۔ عام شہری کے لیے "محفوظ تعمیرات کی فہرست"
حکومت کو ہر ضلع میں عوامی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔
ہر شخص جو گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے اسے کم از کم یہ سات سوال ضرور پوچھنے چاہئیں:
1۔ کیا میری زمین تعمیر کے لیے موزوں اور محفوظ ہے؟ 2۔ کیا میری جگہ سیلاب، ندی نالے یا خطرناک ڈھلوان کے قریب تو نہیں؟ 3۔ کیا میرا تعمیراتی نقشہ منظور شدہ ہے؟ 4۔ کیا ساختی ڈیزائن مستند انجینئر نے تیار کیا ہے؟ 5۔ کیا تعمیر منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق ہورہی ہے؟ 6۔ کیا اہم تعمیراتی مراحل کا تکنیکی معائنہ ہورہا ہے؟ 7۔ کیا عمارت مکمل ہونے کے بعد تکمیل و استعمال کا اجازت نامہ حاصل کیا جائے گا؟
اگر ان سوالات کے جواب واضح نہیں تو تعمیر شروع کرنے سے پہلے رک کر متعلقہ ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
---
17۔ انجینئرنگ اور آفات سے نمٹنے کے نظام کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے
تعمیراتی منصوبہ بندی اور آفات سے نمٹنے کے نظام کو الگ الگ شعبے سمجھنا اب کافی نہیں۔
قومی قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کی حالیہ سرگرمیوں میں گلگت بلتستان کے لیے سیلاب، پہاڑی تودے گرنے اور برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرات کی نگرانی، پیشگی انتباہ اور مقامی سطح پر تیاری پر زور دیا گیا ہے۔
اسی لیے تعمیراتی نگرانی و تحفظ کے ادارے اور گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GBDMA: Gilgit-Baltistan Disaster Management Authority) کے درمیان مستقل ادارہ جاتی رابطہ ہونا چاہیے۔
ہر ضلع میں تعمیراتی منصوبہ بندی کو مقامی خطراتی معلومات کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
اس پالیسی کو محض قانون بنا کر ختم نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایک واضح پانچ سالہ پروگرام کے طور پر نافذ کیا جاسکتا ہے۔
پہلے سال
قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاح، خطراتی نقشہ سازی اور موجودہ قوانین کا جائزہ۔
دوسرے سال
ڈیجیٹل تعمیراتی اجازت کا نظام، پیشہ ورانہ رجسٹریشن اور ضلعی سطح پر معائنے کا نظام۔
تیسرے سال
موجودہ حساس سرکاری و عوامی عمارتوں کا ساختی تحفظ کا جائزہ۔
چوتھے سال
غیر محفوظ عمارتوں کی اصلاح، مضبوطی اور جہاں ضروری ہو منتقلی۔
پانچویں سال
پورے نظام کا آزادانہ کارکردگی جائزہ اور قانون و پالیسی میں ضروری اصلاحات۔
ہر سال حکومت کو عوام کے سامنے تعمیراتی تحفظ کی رپورٹ (Building Safety Report) پیش کرنی چاہیے جس میں منظور شدہ منصوبوں، معائنے، خلاف ورزیوں اور اصلاحی اقدامات کا مجموعی ڈیٹا دیا جائے۔
---
آخری بات: حادثے کا انتظار کیوں؟
دنیا بھر میں آفات کے خطرات میں کمی کا بنیادی تصور یہی ہے کہ آفت آنے کے بعد صرف امداد اور بحالی پر انحصار کرنے کے بجائے آفت سے پہلے خطرات کو کم کیا جائے۔
پاکستان کی قومی سطح پر بھی آفات کے خطرات میں کمی، لچک اور پیشگی منصوبہ بندی پر زور دیا جارہا ہے۔
گلگت بلتستان کے لیے اس سوچ کو تعمیراتی شعبے میں عملی شکل دینے کا وقت آگیا ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ:
کیا ہم صرف عمارتیں بنانا چاہتے ہیں، یا محفوظ عمارتیں؟
کیا ہم صرف سڑکوں اور شہروں کو پھیلانا چاہتے ہیں، یا ایسے شہر بنانا چاہتے ہیں جو زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور لچک دار ہوں؟
کیا ہم حادثے کے بعد ملبہ اٹھانے کے لیے تیاریاں کریں گے یا آج ہی ایسی تعمیرات کو روکیں گے جو کل ملبے میں تبدیل ہوسکتی ہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ ہر شہری، انجینئر، ماہرِ تعمیر، مشیر، ٹھیکیدار اور ڈویلپر سے ہے۔
ایک عمارت کی کمزور بنیاد شاید آج کسی کو دکھائی نہ دے، مگر قدرتی آفت کے لمحے میں وہی کمزوری زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔
لہٰذا گلگت بلتستان میں محفوظ تعمیرات کو محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ قومی و انسانی سلامتی، شہری منصوبہ بندی اور آفات کے خطرات میں کمی کی بنیادی پالیسی سمجھنا ہوگا۔
حکومت کو قانون بنانا ہوگا، اداروں کو اسے نافذ کرنا ہوگا، پیشہ ور افراد کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی اور شہریوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ انجینئرنگ پر خرچ کوئی غیر ضروری بوجھ نہیں بلکہ اپنی جان، اپنے خاندان اور اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کی قیمت ہے۔
ترقی وہ نہیں جو صرف عمارتیں کھڑی کرے؛ ترقی وہ ہے جو انسانوں کو محفوظ رکھتے ہوئے تعمیر کرے۔
اور گلگت بلتستان جیسے حساس خطے میں اب وقت آگیا ہے کہ ہماری تعمیرات کا اصول ایک ہی ہو: