
تحریر: رشید احمد گبارو
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر یہ حقیقت پوری قوت کے ساتھ آشکار کر دی ہے کہ اس خطے کے عوام محض سیاسی نعروں، وقتی جوش اور انتخابی ہنگامہ آرائی سے مرعوب ہونے والے لوگ نہیں، بلکہ وہ اپنی اجتماعی بصیرت، سیاسی شعور اور عوامی مفاد کے پیمانے پر قیادت کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات 2026 میں اپنے حلقۂ انتخاب سے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرنے اور پورے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر نمایاں فتح سمیٹنے والے حافظ حفیظ الرحمن صاحب کی کامیابی کو محض ایک انتخابی نتیجہ قرار دینا حقیقت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ کامیابی دراصل ایک عوامی فیصلے کی بازگشت ہے؛ ایک ایسے اجتماعی اعتماد کی توثیق ہے جو عوام نے ایک بار پھر خدمت، شائستہ سیاست، سیاسی وقار، انتظامی تجربے اور عوامی وابستگی کے حق میں دیا ہے۔میں اپنے عزیزم و گرامی قدر حافظ حفیظ الرحمن صاحب کو اس تاریخی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ کامیابی صرف ایک فرد، ایک جماعت یا ایک حلقے کی جیت نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی مزاج کی کامیابی ہے جو گلگت بلتستان کی سیاست میں تہذیب، استقامت، خدمت اور سنجیدگی کے عناصر کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ یہ فتح اس امر کا اظہار بھی ہے کہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے صرف نمائندے منتخب نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے اجتماعی احساسات، امیدوں اور ترجیحات کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ حافظ حفیظ الرحمن صاحب کے حق میں پڑنے والا یہ غیر معمولی اعتماد دراصل اسی اعلان کا روشن عنوان ہے۔گلگت بلتستان کی سیاست میں حافظ حفیظ الرحمن صاحب کی شناخت محض ایک جماعتی عہدے دار یا انتخابی امیدوار کی نہیں رہی، بلکہ ایک ایسے سیاسی کردار کی رہی ہے جس نے اپنے طرزِ عمل، شائستگی، نرم خوئی اور عوامی رابطے کے ذریعے ایک الگ مقام پیدا کیا۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ سیاست کو محض اقتدار تک رسائی کا زینہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے عوامی خدمت، اجتماعی مفاد اور سیاسی وقار کی ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عوام نے ایک بار پھر ان پر اعتماد کیا تو اس اعتماد میں ان کے ماضی کی خدمات، ان کے سیاسی رویّے اور ان کی عوامی وابستگی سب کچھ شامل تھا۔
اگر حافظ حفیظ الرحمن صاحب کے سیاسی سفر کا سب سے نمایاں باب تلاش کیا جائے تو بلا شبہ 2015 سے 2020 تک بطور وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان ان کا دورِ حکومت اس کا روشن ترین حصہ قرار پائے گا۔ اس دور کو محض ایک آئینی مدت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے گلگت بلتستان کی ترقیاتی، انتظامی اور سیاسی تاریخ کے ایک اہم مرحلے کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ ان برسوں میں جس انداز سے ترقیاتی منصوبوں کو سمت دی گئی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی توسیع و بہتری پر توجہ دی گئی، امن و امان کے استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں، اور سیاحت کے فروغ کے لیے ایک نسبتاً سازگار ماحول پیدا کیا گیا، وہ سب اس امر کی شہادت ہیں کہ اگر قیادت میں وژن اور اخلاص ہو تو محدود دائرۂ اختیار کے باوجود بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔خصوصاً نوجوانوں کے لیے میرٹ پر روزگار کی فراہمی کا تصور ان کے دورِ حکومت کی ایک ایسی شناخت ہے جسے آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں اقربا پروری، سفارش اور غیر شفاف طرزِ حکمرانی پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں، وہاں میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کرنا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سیاسی پیغام بھی ہوتا ہے۔ حافظ حفیظ الرحمن صاحب کے دور میں یہی پیغام نمایاں دکھائی دیا کہ ریاستی وسائل اور مواقع پر عوام کا حق مساوی بنیادوں پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود عوامی حافظے میں محفوظ رہتے ہیں، اور یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر دوبارہ اعتماد کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ عام انتخابات میں ان کی یہ تاریخی کامیابی دراصل انہی خدمات کا اعتراف بھی ہے اور انہی کاوشوں کی توثیق بھی۔ عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سیاست میں سب سے مضبوط سرمایہ نہ دولت ہوتی ہے، نہ شور، نہ وقتی جوش؛ بلکہ اصل سرمایہ اعتماد، کردار، خدمت اور عوام سے زندہ تعلق ہوتا ہے۔ حافظ حفیظ الرحمن صاحب کی کامیابی اسی زندہ تعلق کا ثبوت ہے۔
تاہم سیاست کا منظرنامہ ہمیشہ یک رخا نہیں ہوتا۔ گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی حالات میں وفاقی جماعتوں کے باہمی اتفاقِ رائے کے نتیجے میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو دعوت دی گئی ہے، اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جمہوری روایت کے تحت اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اپنی نوعیت میں ایک سیاسی حقیقت ہے، اور جمہوریت میں سیاسی حقیقتوں سے انکار کے بجائے ان کا باوقار سامنا ہی بالغ نظری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس حقیقت کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے: حافظ حفیظ الرحمن صاحب اب گلگت بلتستان اسمبلی میں بطور قائدِ حزبِ اختلاف ایک نہایت اہم، مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کس کے پاس ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ایوان کے اندر عوامی مفاد کی نگہبانی کون کرے گا، خطے کے آئینی و انتظامی مسائل پر مسلسل آواز کون اٹھائے گا، ترقیاتی ترجیحات کی سمت پر نظر کون رکھے گا، اور اقتدار کے ایوانوں کو یہ احساس کون دلاتا رہے گا کہ جمہوریت صرف حکومت بنانے کا نام نہیں بلکہ جواب دہی، توازن اور عوامی امانت کے احترام کا نام بھی ہے۔ اس تناظر میں قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب محض ایک رسمی عہدہ نہیں بلکہ جمہوری توازن کی ایک بنیادی علامت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ حافظ حفیظ الرحمن صاحب اس منصب کے تقاضوں کو پوری سنجیدگی، بصیرت، پارلیمانی وقار اور سیاسی متانت کے ساتھ نبھائیں گے۔ایک ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ہمیشہ حکومت گرانا نہیں ہوتا، بلکہ حکومت کو آئینہ دکھانا، پالیسیوں کی خامیوں کی نشاندہی کرنا، اچھے اقدامات کی تائید کرنا، کمزور طبقات کی آواز بننا، نوجوانوں کے مستقبل، خطے کے حقوق اور عوامی مفادات کی نگہبانی کرنا ہوتا ہے۔ یہی وہ دائرہ ہے جس میں حافظ حفیظ الرحمن صاحب کی آئندہ پارلیمانی ذمہ داری نہایت اہم ہو جاتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ ایوان کے اندر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق، مالی و انتظامی مسائل، نوجوانوں کے روزگار، تعلیمی امکانات، صحت عامہ، سیاحت، انفراسٹرکچر اور دور افتادہ علاقوں کی محرومیوں کے حوالے سے ایک مضبوط اور مسلسل آواز بنیں گے۔ وہ اختلاف کو محاذ آرائی کا عنوان نہیں بنائیں گے بلکہ اسے جمہوری توازن، سیاسی تہذیب اور عوامی مفاد کے سانچے میں ڈھال کر پیش کریں گے۔ یہی طرزِ عمل دراصل بالغ سیاست کی پہچان ہوتا ہے۔میرے نزدیک اصل قیادت وہی ہے جو اقتدار میں ہو تو خدمت کو شعار بنائے، اور اپوزیشن میں ہو تو عوامی حقوق کی نگہبانی کو اپنا فرض سمجھے۔ حافظ حفیظ الرحمن صاحب کے سیاسی سفر کا مطالعہ یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اس دونوں مرحلوں کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بطور وزیرِ اعلیٰ انہوں نے ایک ذمہ داری نبھائی، اور اب بطور قائدِ حزبِ اختلاف ان کے سامنے ایک نئی ذمہ داری ہے۔ اور بعض اوقات اپوزیشن کی ذمہ داری اقتدار سے زیادہ کڑی ہوتی ہے، کیونکہ وہاں اختیار کم اور جواب دہی زیادہ ہوتی ہے، مگر یہی مقام اصل سیاسی کردار کی آزمائش بھی بن جاتا ہے۔
اس تمام منظرنامے میں ایک اور خوش آئند پہلو بھی نظرانداز نہیں ہونا چاہیے، اور وہ ہے آج حلف اٹھانے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے تمام نومنتخب اراکین کا ایوان میں داخلہ۔ یہ موقع محض انفرادی کامیابیوں کا نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داریوں کا آغاز بھی ہے۔ میں اس موقع پر تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نومنتخب اراکینِ اسمبلی کو بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عوام نے ان سب کو ایک عظیم امانت سونپی ہے؛ یہ امانت صرف نشستوں کی نہیں، بلکہ امیدوں، خوابوں، محرومیوں، مسائل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی امانت ہے۔ میری خواہش ہے کہ تمام منتخب نمائندگان جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کی حقیقی خدمت، نوجوانوں کے بہتر مستقبل، آئینی حقوق کے تحفظ، ادارہ جاتی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور خطے کی متوازن ترقی کے لیے سنجیدہ، شائستہ اور تعمیری کردار ادا کریں۔گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جس کی خوبصورتی محض اس کے پہاڑوں، وادیوں اور دریاؤں میں نہیں، بلکہ اس کے باشعور عوام، باوقار روایات اور روشن امکانات میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہ خطہ محض انتظامی فیصلوں سے نہیں، بلکہ دور اندیش قیادت، اجتماعی بصیرت، دیانت دار حکمرانی اور مسلسل عوامی خدمت سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ آج جب ایک نئی اسمبلی وجود میں آ رہی ہے تو یہ محض آئینی تقاضے کی تکمیل نہیں، بلکہ ایک نئے سیاسی عہد کے آغاز کی علامت بھی ہے۔ دعا یہی ہے کہ یہ ایوان اختلاف کو دشمنی میں، سیاست کو نفرت میں اور اقتدار کو ذاتی منفعت میں تبدیل کرنے کے بجائے گلگت بلتستان کی بہتری، استحکام، انصاف اور وقار کے لیے ایک تعمیری مثال قائم کرے۔
اس موقع پر میں آج حلف اٹھانے والے تمام جماعتوں کے نومنتخب اراکینِ گلگت بلتستان اسمبلی کو بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عوام نے ان سب کو ایک عظیم امانت سونپی ہے؛ میری دعا ہے کہ تمام منتخب نمائندگان جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کی ترقی، نوجوانوں کے روشن مستقبل، آئینی حقوق کے تحفظ، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے اخلاص، دیانت اور بصیرت کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔
آخر میں، میں ایک بار پھر اپنے عزیزم و گرامی قدر حافظ حفیظ الرحمن صاحب کو اس غیر معمولی کامیابی پر صمیمِ قلب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، استقامت، حکمت اور مزید کامیابیوں سے نوازے، انہیں بطور قائدِ حزبِ اختلاف عوامی مفاد کے تحفظ میں سرخرو فرمائے، اور گلگت بلتستان کے تمام منتخب نمائندوں کو حق، دیانت اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ کرے کہ گلگت بلتستان کی نئی اسمبلی عوامی امیدوں کی حقیقی ترجمان بنے، اور یہ خطہ امن، ترقی، انصاف، آئینی وقار اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف بڑھتا چلا جائے۔ آمین ثم آمین۔
طالب دعا: رشید احمد گبارو