Skip to content

RASHID AHMED GABARO

Menu
  • Home
  • About Me
    • Photo Gallery
  • History
    • Shina People:
    • Dardic History of North Indus
    • Dardic Languages of North Indus
  • Hall of Fame
  • Islamic Studies
    • Quran Majeed
    • Seerat Un Nabi (SAW)
    • Seerat e Awlia
    • Islamic history
  • Posts
  • Downloads
  • Contact Us
Menu

آغاز سال نو 1448ھجری، یاد فاروق اعظم سیدنا عمرؓ ابن الخطاب اور پیغام کربلا

Posted on June 16, 2026June 16, 2026 by gabbaro
Spread the love

تالیف و ترتیب: رشید احمد گبارو………………………….. الحمد للہ رب العالمین! اللہ تعالیٰ نے ہمیں نئے ہجری سال 1448ھ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس مبارک موقع پر بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سال کو امتِ مسلمہ کے لیے خیر و برکت، امن و سلامتی، اتحاد و اخوت اور ترقی و سربلندی کا سال بنائے، ہمیں اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور دینِ اسلام کی صحیح خدمت کا شرف نصیب کرے۔ آمین۔یکم محرم الحرام اسلامی تاریخ کے ایک عظیم باب کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں امیرالمؤمنین، خلیفۂ راشدِ ثانی، شہیدِ محراب، فاتحِ عالم، مرادِ رسول اکرم ﷺ، فاروقِ اعظم اور صاحبُ الرائے بالقرآن سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم الشان شخصیت، بے مثال کردار اور لازوال خدمات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو نئی قوت اور حوصلہ ملا۔ آپؓ حق و باطل میں فرق کرنے والے تھے، اسی لیے بارگاہِ نبوت سے آپؓ کو “فاروق” کا عظیم لقب عطا ہوا۔ آپؓ کی شخصیت جلال اور جمال، قوت اور رحمت، عدل اور انکساری کا حسین امتزاج تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی خصوصی دعاؤں کے فیض یافتہ اس عظیم صحابی نے اپنی پوری زندگی اسلام کی سربلندی، حق کے قیام اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ متعدد مواقع پر آپؓ کی رائے کے مطابق قرآنی آیات نازل ہوئیں۔ اسی وجہ سے آپؓ کو “صاحبُ الرائے بالقرآن” کہا جاتا ہے۔ یہ اعزاز آپؓ کے غیر معمولی فہمِ دین، بصیرت اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراست کا روشن ثبوت ہے۔آپؓ کے دورِ خلافت کو بجا طور پر اسلامی تاریخ کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے۔ عدل و انصاف کی ایسی مثالیں قائم ہوئیں جن کی نظیر تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔ رعایا کے حقوق کا تحفظ، بیت المال کی دیانت دارانہ نگرانی، عدالتی نظام کی مضبوطی، عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات اور اسلامی ریاست کی بے مثال توسیع آپؓ کے روشن کارناموں میں شامل ہیں۔ آج بھی “عدلِ فاروقی” انصاف، دیانت اور عوامی خدمت کا ایک زندہ استعارہ سمجھا جاتا ہے۔تاہم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت صرف فتوحات، انتظامی صلاحیتوں اور حکمرانی تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپؓ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو خوفِ خدا، محاسبۂ نفس اور آخرت کی جوابدہی کا احساس تھا۔ مورخین اور سیرت نگاروں نے نقل کیا ہے کہ آپؓ کی ذاتی انگوٹھی پر یہ الفاظ نقش تھے:«كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا يَا عُمَرُ»”اے عمر! نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے۔”حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ الفاظ اپنی انگوٹھی پر اس لیے کندہ کروائے تھے تاکہ جب بھی وہ کسی سرکاری، عدالتی یا ذاتی معاملے میں فیصلہ کریں تو یہ جملہ انہیں موت، آخرت اور اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہی کی یاد دلاتا رہے۔ یہی احساسِ ذمہ داری تھا جس نے ایک عظیم حکمران کو رعایا کا حقیقی خادم بنا دیا۔تاریخی روایات کے مطابق خلافت سنبھالنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی وہ مبارک انگوٹھی بھی آپؓ کے پاس موجود تھی جس پر “محمد رسول اللہ” نقش تھا اور اسے سرکاری خطوط اور فرامین پر مہر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ آپؓ کی ذاتی انگوٹھی پر کندہ یہ مختصر مگر عظیم نصیحت آپؓ کی باطنی کیفیت، خشیتِ الٰہی اور محاسبۂ نفس کی آئینہ دار تھی۔چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت تاریخ کے صفحات میں اسی شان سے محفوظ ہے۔ حالیہ عرصے میں مدینہ منورہ کے نواحی علاقے المہد میں دریافت ہونے والی ایک قدیم سنگی تحریر نے دنیا بھر کے مؤرخین اور محققین کی توجہ حاصل کی، جس میں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مبارک نام محفوظ پایا گیا۔ اس تحریر کا مفہوم یوں بیان کیا جاتا ہے:”اللہ عمر بن الخطاب کا دنیا و آخرت میں سرپرست ہے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔”یہ تاریخی دریافت اس حقیقت کی ایک اور روشن گواہی ہے کہ فاروقِ اعظمؓ کی یاد صرف کتابوں اور تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں بلکہ زمانے کے پتھروں پر بھی ثبت ہے۔23 ہجری کے اختتام اور 24 ہجری کے آغاز میں امتِ مسلمہ اس عظیم قائد، عادل حکمران اور خادمِ اسلام کی جدائی کے غم سے دوچار ہوئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا سے رخصت ہو کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ان کے افکار، ان کا کردار، ان کا عدل اور ان کی خدمات صدیوں تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔آج جب ہم نئے ہجری سال کا آغاز کر رہے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدل، تقویٰ، دیانت، بصیرت، احساسِ ذمہ داری اور خوفِ خدا کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ اوصاف ہیں جنہوں نے ایک عظیم انسان کو تاریخِ اسلام کا عظیم ترین حکمران اور رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بنا دیا۔اللہ تعالیٰ امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درجات بلند فرمائے، ان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین، ملت اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین محرم الحرام کا آغاز ہمیں یہ عظیم درس دیتا ہے کہ اقتدار امانت ہے، عدل عبادت ہے اور قیادت کا حقیقی حسن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسوۂ مبارک میں جلوہ گر ہے۔ وما توفیقی إلا باللہ۔۔طالب دعا :

Rashid Ahmed Gabaro

~Rashid Ahmed Gabaro

Like Us On Facebook

Facebook Pagelike Widget

Number of Visitor

0118216
Visit Today : 8

calendar

June 2026
M T W T F S S
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930  
« Nov    
©2026 RASHID AHMED GABARO | Built using WordPress and Responsive Blogily theme by Superb