
گلگت بلتستان کا مینڈیٹ اور مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل
تحریر: رشید احمد گبارو
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات 2026 کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں، رہنماؤں اور ووٹروں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر واقعی وفاقی حکومت نے بجٹ کی منظوری یا دیگر سیاسی مفاہمتوں کے عوض گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا حق پیپلز پارٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تو یہ فیصلہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک میں مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔جمہوریت کی بنیاد عوامی مینڈیٹ پر استوار ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کو محض ایک سیاسی جماعت کے طور پر ووٹ نہیں دیا بلکہ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت، کارکردگی اور 2015 سے 2020 تک کے ترقیاتی دور پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سڑکوں، تعلیمی اداروں، صحت کے منصوبوں اور بنیادی انفراسٹرکچر میں ہونے والی پیش رفت آج بھی عوام کے ذہنوں میں موجود ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک مرتبہ پھر ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔اگر اس عوامی اعتماد اور مینڈیٹ کو پسِ پشت ڈال کر محض سیاسی سودے بازی یا وفاقی مصلحتوں کی بنیاد پر حکومت کسی دوسری جماعت کے حوالے کی جاتی ہے تو اسے کارکنان اور ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کی توہین تصور کریں گے۔ ایسی صورت میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے فیصلے سے زیادہ اہمیت بند کمروں میں ہونے والے سیاسی معاہدوں کو دی جا رہی ہے۔وفاقی حکومت میں موجود قیادت کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے کارکن ہوتے ہیں۔ اگر کارکن یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کی برسوں کی جدوجہد، انتخابی مہم اور عوامی رابطوں کی کوئی اہمیت نہیں، تو مایوسی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ آج گلگت بلتستان میں یہی احساس تیزی سے جنم لے رہا ہے۔ متعدد کارکن اور رہنما اس صورتحال پر سخت تحفظات رکھتے ہیں، جبکہ بعض حلقوں میں اجتماعی استعفوں اور سیاسی لائحہ عمل پر غور کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔یہ معاملہ صرف ایک صوبائی یا علاقائی حکومت کا نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی قومی سیاسی ساکھ کا بھی ہے۔ اگر پارٹی اپنے ہی ووٹرز اور کارکنوں کے مینڈیٹ کا دفاع نہ کر سکی تو اس کے اثرات گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان بھر میں مسلم لیگ (ن) کے کارکن یہ سوال اٹھائیں گے کہ جب عوامی مینڈیٹ کو ذاتی مفادات کی خاطر قربان کیا جا سکتا ہے تو پھر انتخابی جدوجہد کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟سیاسی جماعتیں انتخابات جیتنے سے نہیں بلکہ عوام کا اعتماد برقرار رکھنے سے زندہ رہتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کارکن اور ووٹر جماعت سے بددل ہو جائیں تو پھر مضبوط سے مضبوط سیاسی قوت بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس لیے آج مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے سامنے اصل سوال حکومت سازی سے بڑھ کر اپنے سیاسی وجود، کارکنوں کے اعتماد اور مستقبل کے تحفظ کا ہے۔گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کا احترام کرے، اپنے کارکنوں کے جذبات کو سمجھے اور ایسا کوئی قدم نہ اٹھائے جو وقتی مفاد تو حاصل کر لے مگر جماعت کے طویل المدتی مستقبل کو خطرے میں ڈال دے۔اگر کارکنوں کے اعتماد کو مجروح کیا گیا اور عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا تو اس کے نتائج صرف گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے کمزور ہونے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ خدشہ ہے کہ پورے ملک میں جماعت کی تنظیمی بنیادیں متاثر ہوں اور آنے والے برسوں میں مسلم لیگ (ن) کو ایک سنگین سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی سودے بازی کے بجائے عوامی مینڈیٹ، کارکنوں کی قربانیوں اور جمہوری اصولوں کو ترجیح دی جائے، کیونکہ یہی کسی بھی سیاسی جماعت کی بقا اور استحکام کی اصل ضمانت ہے۔
تاہم اس تمام بحث کا مقصد کسی مخصوص جماعت کی مخالفت یا حمایت نہیں، بلکہ عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اصولوں کا تحفظ ہے۔ اگر کوئی بھی سیاسی جماعت — خواہ وہ پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ (ن) ہو یا کوئی اور — آئینی اور جمہوری طریقے سے 24 رکنی اسمبلی میں 13 اراکین کی واضح اکثریت ثابت کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے، تو اسے حکومت بنانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کس جماعت کی بنتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ حکومت عوام کے دیے گئے مینڈیٹ اور اسمبلی میں حاصل شدہ اکثریت کی بنیاد پر تشکیل پائے۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ اقتدار کا فیصلہ سیاسی سودے بازی یا بیرونی دباؤ سے نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کی اکثریت سے ہوتا ہے۔مزید یہ کہ گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے بعض حلقوں کے نتائج روکنے اور چند پولنگ اسٹیشنوں پر 15 جون کو دوبارہ پولنگ کرانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں مناسب یہی ہوتا کہ وفاقی حکومت ان انتخابات کے مکمل انعقاد اور تمام نتائج کے سامنے آنے کا انتظار کرتی تاکہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں کی حقیقی اور مکمل پوزیشن واضح ہو جاتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا عمل شفاف، آئینی اور عوامی اعتماد کے مطابق ہو، تاکہ نہ صرف جمہوری روایات مضبوط ہوں بلکہ عوام کے ووٹ کی حرمت بھی برقرار رہے اور کسی بھی فیصلے پر غیر ضروری سوالات جنم نہ لیں۔