Skip to content

RASHID AHMED GABARO

Menu
  • Home
  • About Me
    • Photo Gallery
  • History
    • Shina People:
    • Dardic History of North Indus
    • Dardic Languages of North Indus
  • Hall of Fame
  • Islamic Studies
    • Quran Majeed
    • Seerat Un Nabi (SAW)
    • Seerat e Awlia
    • Islamic history
  • Posts
  • Downloads
  • Contact Us
Menu

فتنوں کا عہِدِ جدید اور نجات کا نبوی راستہ— رہبانیت سے ڈیجیٹل عزلت تک

Posted on September 11, 2026September 11, 2026 by gabbaro
Spread the love

تحریر: رشید احمد گبارو

موجودہ دور مادی ترقی، ایجادات اور سائنسی عروج کا دور تو کہلا سکتا ہے، لیکن روحانی و اخلاقی اعتبار سے یہ تاریخِ انسانی کا شاید سب سے زیادہ پُرآشوب اور فتنوں سے گھرا ہوا عہد ہے۔ انسانی تاریخ میں کبھی بھی گناہ، لغو الایام اور فتنہ انگیز باتیں اتنی عام اور رسائی میں اتنی آسان نہیں تھیں جتنی آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ہیں۔ مادی چکا چوند اور ورچوئل دنیا کے اس ہجوم میں الجھا ہوا انسان سکونِ قلب اور ابدی نجات کے راستے سے بھٹک چکا ہے۔ ایسے دگرگوں حالات میں رشد و ہدایت کا وہ آفتابِ نبوت ہی ہمارے لیے واحد سہارا ہے، جس کی کرنیں چودہ سو سال قبل بھی اندھیروں کو چاک کر رہی تھیں اور آج کے ڈیجیٹل اندھیروں میں بھی شاہراہِ نجات کو روشن کرتی ہیں۔سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایک بار رسالت مآب ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک ایسا ہی آفاقی سوال پیش کیا جس کا تعلق براہِ راست ہر دور کے انسانی فتنوں سے ہے۔ آپؓ نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! نجات کس چیز میں ہے؟” حضور اکرم ﷺ نے جواب میں کوئی لمبی چوڑی فہرست پیش نہیں کی، بلکہ صرف تین ایسے گراں قدر اصول بیان فرمائے جو سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔جامع ترمذی٢٤٠٦ اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تمہیں وسعت دے (یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلو، اور اپنے گناہوں پر روؤ۔ جمہور ائمہِ حدیث کی تحقیقات کے مطابق اگرچہ اس مخصوص سند کے راویوں پر بعض محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن دیگر تائیدی روایات، شواہد اور مسلمہ قرائن کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ کے درجے پر فائز ہے اور امت مسلمہ میں اس کا متن اور مفہوم ہمیشہ سے مقبول و معتبر رہا ہے۔

حدیثِ نبوی اور تصورِ رہبانیت کا علمی موازنہ

اس مقام پر ایک علمی سوال اور اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیا— گھر میں رہنے —کی یہ نبوی تلقین انسان کو معاشرے سے کاٹ کر عیسائیت کی طرح —رہبانیت— کی طرف تو نہیں دھکیل دے گی؟ حالانکہ اسلام نے رہبانیت کی سخت ممانعت کی ہے اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رہبانیت کے بدلے ہمیں ایک آسان اور سیدھا دین عطا فرمایاہے  —طبرانی۔اس باریک فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآنِ حکیم کی سورہ حدید کی آیت نمبر ٢٧ کا مطالعہ کرنا ہوگا، جہاں اللہ رب العزت عیسائیوں کی رہبانیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہےاور— رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کر لیا، ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھا، مگر انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کے لیے ایسا کیا، پھر انہوں نے اس کی ویسی لاج نہ رکھی جیسی رکھنی چاہیےتھی۔

تاریخِ عیسائیت میں رہبانیت کا آغاز کیسے ہوا؟ اگر ہم سورہ حدید کی روشنی میں دیکھیں، تو عیسائیوں میں یہ عمل کیسے شروع ہوا، اس کے دو بڑے تاریخی اسباب تھے

فلسفیانہ غلو۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، جب رومی سلطنت نے عیسائیت کو قبول کر لیا، تو عیسائیوں میں دولت اور دنیا پرستی عام ہو گئی۔ اس کے ردِعمل میں کچھ لوگوں نے انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا اور یہ سمجھا کہ اللہ کو پانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ شادی نہ کی جائے، اچھے کپڑے نہ پہنے جائیں اور جسم کو تکلیف دی جائے۔ انہوں نے اس انسانی ایجاد کو دین کا لازمی حصہ بنا لیا، جس کی قرآن نے نفی کی۔

ظالم بادشاہوں کا ظلم و ستم۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جب رومی سلطنت کے بت پرست بادشاہوں نے عیسائیوں پر شدید ظلم ڈھائے اور انہیں دین چھوڑنے پر مجبور کیا، تو سچے عیسائی اپنے ایمان کو بچانے کے لیے شہروں کو چھوڑ کر پہاڑوں اور غاروں کی طرف نکل گئے۔ یہ ان کا ایک اضطراری (مجبوری کا) قدم تھا۔

عیسائیوں کی رہبانیت اصل میں دین میں غلو اور انتہا پسندی کا نام تھا، جس میں انہوں نے حلال دنیاوی لذات جیسے شادی کرنا، حلال رزق کمانا اور اچھا لباس پہننا کو مستقل طور پر اپنے اوپر حرام کر لیا اور آبادیوں کو چھوڑ کر غاروں اور جنگلوں میں جا بیٹھے۔ چونکہ یہ انسانی فطرت کے خلاف جنگ تھی، اس لیے وہ خود اپنی بنائی ہوئی سخت شرائط کو نبھا نہ سکے اور بالاخر بدترین اخلاقی پستی کا شکار ہو گئے۔اس کے برعکس، حدیثِ نبوی میں جس —گوشہ نشینی یا عزلت—کا حکم دیا گیا ہے، وہ کوئی مستقل طرزِ زندگی یا حلال چیزوں کو حرام کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ فتنوں کے دور میں ایک عارضی طبی علاج اور حفاظتی تدبیر ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ جمعہ و جماعت، صلہ رحمی اور حلال معاش کو ترک کر دیں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جب معاشرہ اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو اور زبان کا فتنہ عروج پر ہو، تو بازاروں، چوک چوراہوں اور لاحاصل مجلسوں میں بیٹھ کر اپنے ایمان کو برباد کرنے کے بجائے اپنے گھر کے حصار کو غنیمت سمجھا جائے۔ یہ رہبانیت نہیں بلکہ حفاظتی خود اِنحصاری  ہے۔رہبانیت ایک انسانی ایجاد تھی —یعنی بدعت—اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ عیسائیوں نے دنیا کو ترک کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا، وہ اللہ کا دیا ہوا حکم نہیں تھا، بلکہ انہوں نے خود ابتداعاً اسے ایجاد کیا۔نیت کی اچھائی لیکن عمل کی خرابی۔ عیسائیوں کا یہ قدم شروع میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے تھا تاکہ وہ اپنے دور کے فتنوں اور ظالم بادشاہوں سے اپنے دین کو بچا سکیں۔ناکامی اور شرائط کی خلاف ورزی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے جو سخت شرائط جیسے شادی نہ کرنا، جنگلوں میں رہنا اپنے اوپر خود لازم کی تھیں، وہ بعد میں ان کو نبھا نہ سکے ، جس کے نتیجے میں وہ بدکاری اور اخلاقی پستی کا شکار ہو گئے۔

ڈیجیٹل دور اور “ڈیجیٹل عزلت” کا عملی فریم ورک

آج کے اس اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے دور میں اس حدیث کا اطلاق جس قدر موزوں ہوتا ہے، تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آج انسان جسمانی طور پر تو گھر کے اندر مقیم ہے، لیکن اس کی اسکرین اسے پوری دنیا کے فتنوں، فحاشی، غیبت اور جھوٹ کے بازار میں گھسیٹ رہی ہے۔ لہذا، موجودہ دور کے مسلم طبقے کے لیے اس نبوی نسخہِ کیمیا کے تینوں اجزاء کا عملی متبادل درج ذیل اصولوں کی صورت میں ممکن ہے

زبان پر قابو— یعنی ڈیجیٹل کی بورڈ— کی حفاظت

قدیم زمانے میں زبان کا فتنہ صرف بولنے تک محدود تھا، لیکن آج ہماری انگلیاں ہماری زبان بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے کسی خبر کو آگے بڑھانا، کمنٹس سیکشن میں بحث برائے بحث میں الجھنا، اور کسی کی پگڑی اچھالنا زبان ہی کا فتنہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی لفظ لکھنے یا شیئر کرنے سے پہلے خود سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا یہ پوسٹ قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی بنے گی یا خلاف؟

گھر کی وسعت— یعنی اسکرین ٹائم کی حد بندی

 آج—گھر میں رہنے— کا مطلب اپنے فون پر ڈیجیٹل حدود قائم کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اسمارٹ فون میں غیر ضروری ایپس کے نوٹیفیکیشنز بند کرے، روزانہ سوشل میڈیا کا وقت مقرر کرے اور گھر میں— نو فون زونز — بنائےخاص طور پر رات کو سونے سے قبل اور صبح بیدار ہوتے ہی موبائل کے بے جا اسکرولنگ سے بچا جائے۔سوشل میڈیا پر آپ کا ہوم پیج ویسا ہی بن جاتا ہے جیسے لوگوں کو آپ فالو کرتے ہیں۔حدیث میں وقت کی قدر کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ موبائل کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے یہ طریقے اپنائیں—ایپ لاکس کا استعمال— اپنے فون میں سکرین ٹائم کے فیچرز استعمال کریں اور سوشل میڈیا ایپس ،مثلاً انسٹاگرام، فیس بک کے لیے روزانہ کا ایک وقت مقرر کر دیں۔ غیر ضروری ایپس کے نوٹیفیکیشنز بند کر دیں، تاکہ بار بار فون کی طرف دھیان نہ جائے۔—منفی اکاؤنٹس کو ان فالو کریں—۔ ہر وہ پیج یا شخص جو مایوسی، فحاشی، بلاوجہ کی بحث، یا دنیا پرستی کی نمائش کرتا ہو، اسے فوراً ان فالو یا بلاک کر دیں۔—مثبت متبادل تلاش کریں— ایسے اکاؤنٹس کو فالو کریں جو آپ کو قرآن و حدیث کی یاد دلائیں، آپ کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں، یا آپ کو کچھ نیا سکھائیں۔کھانے کی میز پر خاندان کے ساتھ کھانا کھاتے وقت موبائل کا استعمال بالکل نہ کریں۔ —انٹرنیٹ کو صدقہ جاریہ بنانا—آپ کی شیئر کی ہوئی ایک اچھی بات سینکڑوں لوگوں تک پہنچ کر آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتی ہے، جبکہ ایک غلط یا جھوٹی بات گناہِ جاریہ بن سکتی ہے۔ لکھنے یا شیئر کرنے سے پہلے خود سے یہ سوال پوچھیں —کیا یہ پوسٹ قیامت کے دن میرے نامہ اعمال میں میرے حق میں گواہی دے گی یا میرے خلاف؟—

“گناہوں پر رونا” یعنی محاسبہِ نفس کے لیے تنہائی

 جب تک انسان موبائل کی اسکرین اور ورچوئل دنیا کے شور سے باہر نہیں نکلے گا، اسے اپنے باطن میں جھانکنے کا موقع نہیں ملے گا۔ روزانہ کم از کم پندرہ منٹ ڈیجیٹل دنیا سے مکمل رابطہ منقطع کر کےرجوع الی اللہ ہو کر مصلّے پر بیٹھیے، اپنے گناہوں کا اعتراف کیجیے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر استغفار کیجیے۔سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم موبائل کو صرف ایک تفریحی کھلونا نہ سمجھیں، بلکہ اسے اللہ کی دی ہوئی نعمت اور امانت تصور کریں۔ جب آپ اسکرین آن کریں، تو یہ نیت کریں کہ میں اسے کسی خیر کے کام —علم حاصل کرنے، حلال کمانے، یا اپنوں سے رابطہ رکھنے— کے لیے استعمال کروں گا۔

حاصلِ کلام

اسلام ہمیں معاشرے سے بھاگنے کا درس نہیں دیتا، بلکہ معاشرے میں رہ کر ایک صالح اور باکردار انسان بننے کی تربیت دیتا ہے۔ تاہم، جب فتنوں کا سیلاب ہر طرف امڈ رہا ہو تو عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنی زبان کو باطل سے روک لے، اپنے گھر اور اپنے اسکرین کو جائے امن بنا لے اور استغفار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔ یہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو سورت الحدید کی روشنی میں ہمیں عیسائیوں کی بدعتی رہبانیت سے بھی بچاتا ہے اور حدیث نبوی کی روشنی میں ہمیں عصرِ حاضر کے فتنوں سے نکال کر ساحلِ نجات تک پہنچاتا ہے۔اسلام ہمیں “معاشرے میں رہ کر سدھرنے” کا حکم دیتا ہے نہ کہ “معاشرے سے بھاگنے” کا۔ فتنوں کے دور میں بھی ہمیں ایک دوسرے کی مدد، حلال کمائی اور حقوق العباد پورے کرنے ہیں، بس اپنی زبان اور ڈیجیٹل کی بورڈ کو قابو میں رکھنا ہے اور غیر ضروری اختلاط سے بچنا ہے۔جب انسان دنیا کے غیر ضروری میل جول اور اسکرین سے دور ہوتا ہے، تو اسے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کا وقت ملتا ہے۔ روزانہ کم از کم دس سے پندرہ منٹ ایسے نکالیں جس میں کوئی موبائل یا انسان پاس نہ ہو، صرف اللہ کا ذکر، رجوع الی اللہ ہو اور اپنے گناہوں کی معافی ہو۔

عیسائی رہبانیت اور اسلامی گوشہ نشینی/عزلت کا موازنہ سورت الحدید کی آیت ٢٧ اور حضرت عقبہ بن عامرؓ کی حدیث ترمذی ٢٤٠٦—گھر میں رہنے کی نصیحت— کے درمیان فرق کو اس موازنے سے سمجھیں

پہلو

عیسائی رہبانیت ۔جس کی قرآن نے نفی کی۔ اسلامی گوشہ نشینی / عزلت ۔جس کا حدیث میں ذکر ہے۔

شرعی حیثیت

رہبانیت ۔ چیزوں —یعنی شادی، اچھا لباس، رزق— کو اپنے اوپر مستقل طور پر حرام کر لینا اور اسے دین کا حصہ سمجھنا۔

اسلامی گوشہ نشینی/ عزلت—جس کا حدیث میں ذکر ہے— حلال چیزوں کو حرام نہیں کیا جاتا، بلکہ فتنوں سے بچنے کے لیے بلا ضرورت میل جول سے پرہیز کیا جاتا ہے۔

سماجی فرائض

رہبانیت ۔ معاشرے، خاندان اور فرائض کو چھوڑ کر خانقاہوں یا غاروں میں مستقل آباد ہو جانا۔

اسلامی گوشہ نشینی / عزلت —جس کا حدیث میں ذکر ہے—۔ جمعہ، جماعت، حج، جہاد، صلہ رحمی اور حلال رزق کمانے کی ذمہ داریاں برقرار رہتی ہیں۔

وقت کی نوعیت

رہبانیت—ایک مستقل طرزِ زندگی ہے جو ہر حال میں برقرار رکھنا ہوتا ہے

۔اسلامی گوشہ نشینی / عزلت —جس کا حدیث میں ذکر ہے— یہ ایک عارضی اور اضطراری تدبیر ہے جو صرف فتنوں کے دور میں حفاظت کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔

انسانی فطرت

رہبانیت ۔ انسانی جذبات اور فطرت کے خلاف جنگ کرنا (جس کے نتیجے میں عیسائی راہب ناکام ہوئے)۔

اسلامی گوشہ نشینی / عزلت —جس کا حدیث میں ذکر ہے— انسانی فطرت کے عین مطابق، صرف گناہوں کی جگہوں سے دور رہ کر دل کی صفائی کرنا۔

~Rashid Ahmed Gabaro

Like Us On Facebook

Facebook Pagelike Widget

Number of Visitor

0120295
Visit Today : 14

calendar

September 2026
M T W T F S S
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
282930  
« Jun    
©2026 RASHID AHMED GABARO | Built using WordPress and Responsive Blogily theme by Superb