
تحریر: رشید احمد گبارو
اسلامی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض تقویم کا حصہ نہیں رہتے بلکہ امتوں کے ضمیر پر سوال بن کر اترتے ہیں۔ عاشورہ محرم بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ صرف دس محرم کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ امتِ محمدیہ کے باطن میں گونجتا ہوا وہ استفسار ہے جو ہر سال آ کر پوچھتا ہے کہ تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کے ساتھ کیا وفا کی، تم نے حق کے ساتھ کیا تعلق رکھا، اور جب باطل نے دین کا لباس پہن کر تمہارے سامنے قدم رکھا تو تم کس طرف کھڑے ہوئے؟ عاشورا کی عظمت یہ ہے کہ اس میں شکر بھی ہے، صبر بھی؛ عبادت بھی ہے، عبرت بھی؛ نجاتِ موسیٰؑ کی روشنی بھی ہے اور کربلا کے خیموں پر اترتی ہوئی شامِ غریباں کی تاریکی بھی۔ مگر اسی تضاد کے اندر ایک ایسا دردناک سوال چھپا ہے جس سے امت آج تک پوری طرح عہدہ برآ نہیں ہو سکی: کیا وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں شمار ہو سکتا ہے جس کے ہاتھ اپنے ہی نبی کے نواسے کے خون سے رنگین ہوں؟
عاشورہ محرم وہ دن ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ اسی روز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی۔ یوں اسلام نے اس دن کو شکر، بندگی، توبہ اور حق کے ساتھ وابستگی کی علامت بنایا۔ لیکن تاریخ کا سب سے المناک موڑ یہ ہے کہ یہی دن بعد میں اس سانحے کی نسبت سے پہچانا جانے لگا جس نے امت کے چہرے پر ہمیشہ کے لیے ایک سیاہ سوال ثبت کر دیا۔ یہی وہ دن ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر، سیدنا المرتضیٰ رضی اللہ عنہ وجہہ الکریم کے فرزند، امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو ان ہی لوگوں نے شہید کر دیا جو زبان سے کلمہ پڑھتے، قبلہ رخ نماز ادا کرتے اور خود کو امتِ محمدیہ کا حصہ کہتے تھے۔
یہ محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں؛ یہ امت کے ضمیر کی آزمائش ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی ذات کسی سیاسی تنازع یا اقتداری کشمکش سے کہیں بلند حقیقت کا نام ہے۔ وہ اس ہستی کے نواسے تھے جس نے انہیں صرف محبت ہی نہیں دی بلکہ امت کے لیے ان کا مقام بھی واضح فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة»، حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا»، یہ دونوں میرے دنیا کے دو خوشبودار پھول ہیں۔ ان ارشادات کی روشنی میں دیکھیے تو کربلا صرف ایک خاندان پر ڈھایا گیا ظلم نہیں رہتا، بلکہ ادبِ رسالت، محبتِ نبوی اور حرمتِ اہلِ بیت کے خلاف ایک ایسا جرم بن جاتا ہے جس کی سنگینی سے دل کانپ اٹھتا ہے۔
قرآن مجید نے مومن کے خون کی حرمت کو جس شدت کے ساتھ بیان کیا ہے، اس کے بعد کربلا کا المیہ اور زیادہ ہولناک دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا۔ جب ایک عام مومن کے قتل پر یہ وعید ہے تو اس ہستی کے قتل کا بوجھ کتنا بھاری ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جگر کا ٹکڑا ہو، اہلِ بیتِ اطہار میں سے ہو، اور امت کے لیے عقیدت، محبت اور وفا کا استعارہ ہو۔ کربلا میں صرف ایک جان نہیں لی گئی، وہاں حرمتیں زخمی ہوئیں، وہاں دعوائے محبت بے نقاب ہوا، وہاں یہ حقیقت پوری سفاکی کے ساتھ سامنے آئی کہ صرف زبان سے مسلمان ہونا کافی نہیں، جب دل دنیا کے ہاتھ فروخت ہو جائے، ضمیر خوف کے سامنے جھک جائے، اور حق اقتدار کی دہلیز پر ذبح ہونے لگے۔
سانحۂ کربلا کی سب سے بڑی ہولناکی یہ نہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے؛ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ انہیں شہید کرنے والے کوئی اجنبی دشمن نہ تھے۔ وہ اسی امت کے نام لیوا تھے، اسی قبلے کی طرف رخ کرتے تھے، اسی قرآن کی تلاوت کرتے تھے، اور اسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عاشورہ محرم الحرام ایک تاریخ نہیں رہتا، بلکہ ایک مستقل محاسبہ بن جاتا ہے۔ ظلم اگر باہر سے آئے تو پہچان آسان ہوتی ہے، مگر جب ظلم دین کے لباس میں آئے، اپنے ہی نام سے آئے، اپنی ہی صفوں سے اٹھے، اور اپنے جرم کے لیے تاویلیں بھی تراش لے، تو پھر آزمائش کہیں زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔ کوفہ کے خطوط اسی آزمائش کی علامت ہیں۔ دعوتیں بھیجی گئیں، نصرت کے وعدے کیے گئے، وفاداری کے اقرار ہوئے، مگر جب حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے کا وقت آیا تو بہت سے ضمیر خوف کے ہاتھ بک گئے، بہت سی زبانیں خاموش ہو گئیں، اور بہت سے قدم پیچھے ہٹ گئے۔ یہی کربلا کا وہ زخم ہے جو صرف امام عالی مقام سیدنا حسینؓ کی شہادت سے نہیں، امت کی بے وفائی سے گہرا ہوا۔
امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ کا قیام کسی سلطنت کے حصول کے لیے نہ تھا۔ یہ اقتدار کی جنگ نہیں، ضمیر کی جنگ تھی؛ تخت کی کشمکش نہیں، حق کے وقار کی حفاظت تھی۔ اگر مقصد دنیاوی حکومت ہوتا تو کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر پیاسے بچوں اور چند جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ نہ ہوتا۔ یہ وہ قیام تھا جس نے امت کو یہ سکھایا کہ جب دین کی روح کو جبر کے قدموں میں ڈالا جا رہا ہو، جب اقتدار حق کے بجائے ظلم کا محافظ بن جائے، جب خاموشی باطل کے لیے ڈھال بن جائے اور مصلحت ایمان کے گلے میں طوق بننے لگے، تو پھر ایک مومن کے لیے حسینؓ کا راستہ ہی اصل راستہ رہ جاتا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خون سے یہ لکھ دیا کہ مسلمان کی اصل طاقت اس کے لشکر میں نہیں، اس کے اصول میں ہوتی ہے؛ اس کی اصل قوت تعداد میں نہیں، سچائی میں ہوتی ہے؛ اور بعض اوقات ایک تنہا سجدہ ہزاروں تلواروں سے زیادہ بلند ہو جاتا ہے۔
کربلا کے مناظر محض جذباتی بیان کے لیے نہیں، بلکہ امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ فرات کنارے بہہ رہا تھا مگر نواسۂ رسولؐ کے خیموں پر پانی بند تھا۔ معصوم بچے پیاس سے تڑپ رہے تھے، اہلِ بیتِ اطہار کے خیموں میں صبر اور اذیت ساتھ ساتھ اتر رہے تھے، ایک ایک کر کے جاں نثار قربان ہو رہے تھے، اور آخرکار امامِ عالی مقام تنہا رہ گئے۔ مگر اس تنہائی میں بھی ان کے موقف کی عظمت کم نہ ہوئی۔ بظاہر طاقت دوسری طرف تھی، مگر وقار حسینؓ کے ساتھ تھا؛ بظاہر لشکر دوسری جانب تھا، مگر حق کا پرچم حسینؓ کے ہاتھ میں تھا؛ بظاہر اقتدار مخالف صف میں تھا، مگر تاریخ کا فیصلہ حسینؓ کے حق میں لکھا جانا تھا۔ یہی کربلا کا معجزہ ہے کہ بظاہر سر کٹ گیا مگر موقف زندہ رہا، خیمے جل گئے مگر پیغام بجھ نہ سکا، جسم خاک پر گرے مگر ضمیرِ انسانیت قیامت تک کے لیے جاگ اٹھا۔
یہاں اہلِ سنت والجماعت کا موقف پوری وضاحت کے ساتھ سامنے رہنا چاہیے۔ اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ایمان کا حصہ ہے، امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت مسلم ہے، ان کی شہادت ایک عظیم ظلم ہے، اور ان کے قاتلوں، ان کے ظلم کے مددگاروں اور اس ظلم پر راضی رہنے والوں کے فعل سے براءت لازم ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی سچا ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا احترام، ان کے مقام کا اعتراف اور ان کے بارے میں زبان کی حفاظت بھی دین کا تقاضا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «لا تسبوا أصحابي»، میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ اس لیے نجات کا راستہ نہ اہلِ بیت کے نام پر صحابۂ کرام کی تنقیص ہے، اور نہ صحابہ کے احترام کے نام پر اہلِ بیت کے مصائب کو کم کر کے دکھانا۔ حق کا راستہ وہی ہے جو محبت، عدل، ادب اور توازن سے بنتا ہے: اہلِ بیت سے سچی محبت، صحابۂ کرام کے لیے احترام، اور ظلم کے ہر کردار سے بے لاگ براءت۔ یہی اہلِ سنت کا منہج ہے اور یہی امت کو جوڑنے والا راستہ۔
لیکن عاشورہ محرم الحرام کا سب سے بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا ہم نے کربلا کو صرف رویا ہے یا سمجھا بھی ہے؟ اگر آج بھی ہمارے معاشرے میں طاقتور کمزور کو کچل رہا ہے، اگر آج بھی حق مفاد کے ہاتھوں ذبح ہو رہا ہے، اگر آج بھی سیاست دیانت سے خالی ہے، اگر آج بھی لوگ مذہب کا نام لے کر ظلم کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر آج بھی مصلحت نے سچ کا گلا دبا رکھا ہے، تو پھر سمجھ لیجیے کہ کربلا صرف تاریخ میں نہیں، ہمارے عہد میں بھی برپا ہے۔ عاشورا صرف ایک روزہ نہیں، ایک سوال بھی ہے؛ صرف ایک یاد نہیں، ایک معیار بھی ہے؛ صرف ایک غم نہیں، ایک احتساب بھی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر آنسو بہانا آسان ہے، مگر ان کے موقف کی قیمت ادا کرنا مشکل ہے۔ ان کی مظلومیت پر تقریر کرنا آسان ہے، مگر اپنے وقت کے باطل کے سامنے کلمۂ حق کہنا مشکل ہے۔ ان کے مصائب پر اشک بہانا آسان ہے، مگر اپنے مفاد کے خلاف جا کر انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ عاشورا انہی مشکل فیصلوں کا نام ہے۔
روزِ محشر جب خونِ ناحق بولے گا، جب زمین اپنے اوپر بہائے گئے لہو کی خبر دے گی، جب مظلوم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے، جب يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ کی حقیقت کھل جائے گی، تب کربلا بھی اللہ کی عدالت میں ایک زندہ مقدمے کی صورت حاضر ہوگی۔ وہاں نہ دنیاوی قوت کام آئے گی، نہ اکثریت، نہ خطابت، نہ تاویلیں، نہ اقتدار کا غرور۔ وہاں صرف حق ہوگا، صرف عدل ہوگا، صرف وہ فیصلہ ہوگا جس میں کسی مظلوم کی آہ ضائع نہیں ہوگی۔ تب معلوم ہو جائے گا کہ کون واقعی حسینؓ کے ساتھ تھا، اگرچہ کربلا میں موجود نہ تھا؛ اور کون حسینؓ کے خلاف تھا، اگرچہ زبان سے محبت کے دعوے کرتا رہا۔ کیونکہ حسینؓ صرف ایک نام نہیں، وہ امت کے ضمیر کا معیار ہیں؛ وہ حق اور باطل کے درمیان کھنچی ہوئی لکیر ہیں؛ وہ وفا اور بے وفائی کے درمیان فرق ہیں؛ وہ یہ سوال ہیں کہ جب تمہارے سامنے دنیا اور دین، مفاد اور اصول، خاموشی اور حق گوئی، جبر اور صداقت آمنے سامنے ہوں تو تم کس طرف کھڑے ہو؟
آج عاشورہ محرم الحرام کے دن اگر امت واقعی اپنے گریبان میں جھانکنا چاہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اندر کے کوفی تلاش کرنا ہوں گے؛ وہ کوفی جو وعدے کرتے ہیں مگر نبھاتے نہیں، وہ ضمیر جو سچ کو پہچانتے ہیں مگر بولتے نہیں، وہ زبانیں جو اہلِ بیت سے محبت کا دعویٰ کرتی ہیں مگر ظلم کے نظاموں سے مفاہمت بھی کر لیتی ہیں، وہ آنکھیں جو کربلا پر نم ہوتی ہیں مگر اپنے زمانے کے مظلوم کو دیکھ کر خشک رہتی ہیں۔ اگر ہم نے عاشورہ کو صرف ایک جذباتی رسم بنا دیا، اگر ہم نے حسینؓ کو صرف ایک ماتمی حوالہ بنا دیا، اگر ہم نے کربلا کو صرف تقریر کا موضوع بنا کر اس کے اخلاقی تقاضوں کو اپنی زندگی سے خارج کر دیا، تو ہم نے عاشورہ محرم الحرام کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ عاشورہ ہمیں صرف گریہ نہیں سکھاتا؛ یہ ہمیں حق کے ساتھ کھڑے ہونا، ظلم سے نفرت کرنا، وعدہ نبھانا، کمزور کا ساتھ دینا، ضمیر نہ بیچنا اور ضرورت پڑنے پر اپنی مصلحت قربان کر دینا سکھاتا ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں صرف شہادت نہیں دی، امت کے لیے ایک ابدی آئینہ چھوڑا۔ اس آئینے میں ہر دور اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ اس میں ظالم اپنا ظلم دیکھ سکتا ہے، بزدل اپنی خاموشی دیکھ سکتا ہے، مفاد پرست اپنی مصلحت دیکھ سکتا ہے، اور صاحبِ ایمان اپنی ذمہ داری دیکھ سکتا ہے۔ حسینؓ نے اپنے خون سے یہ لکھ دیا کہ باطل وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر سرخرو نہیں ہو سکتا، اور حق وقتی طور پر تنہا ہو سکتا ہے مگر مغلوب نہیں ہو سکتا۔ نیزے سر کو جھکا سکتے ہیں، موقف کو نہیں؛ خیمے جلا سکتے ہیں، پیغام کو نہیں؛ لاشوں کو روند سکتے ہیں، مگر سچائی کے سفر کو روک نہیں سکتے۔ یہی کربلا کا فیصلہ ہے، یہی عاشورا کی صدا ہے، اور یہی امتِ محمدیہ کے لیے آخری تنبیہ: اگر تم نے حسینؓ کو صرف رویا اور سمجھا نہیں، تو تم نے عاشورہ کھو دیا؛ اور اگر تم نے حسینؓ کو سمجھ لیا، تو پھر ظلم کے ہر عہد میں تمہارا قبلہ حق ہوگا، چاہے تم تنہا ہی کیوں نہ رہ جاؤ۔

کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، امت کا محاسبہ ہے۔
سوچیے! جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پھول کہا ہو، جسے سینے سے لگایا ہو، کندھوں پر بٹھایا ہو، اس کے خلاف تلوار اٹھانا کتنا بڑا جرم ہوگا؟ یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں تھا، یہ اہلِ بیتِ رسولؐ کی حرمت پر حملہ تھا، یہ محبتِ نبویؐ کے دعوے کی آزمائش تھی، اور یہ امت کے ضمیر پر ایک ایسا زخم تھا جو آج تک تازہ ہے۔
کربلا کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے کوئی اجنبی دشمن نہ تھے۔ وہ اسی امت کے نام لیوا تھے، اسی قبلے کی طرف رخ کرتے تھے، اور خود کو مسلمان کہتے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عاشورا ایک تاریخ نہیں رہتا، بلکہ ایک کڑا سوال بن جاتا ہے:
کیا صرف کلمہ پڑھ لینا کافی ہے، اگر دل ظلم کے ساتھ کھڑا ہو جائے؟
امام حسین رضی اللہ عنہ اقتدار کے لیے نہیں نکلے تھے۔ وہ حق کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے خون سے یہ لکھ دیا کہ مسلمان کی اصل طاقت اس کے لشکر میں نہیں، اس کے اصول میں ہوتی ہے۔ باطل وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر سرخرو نہیں ہو سکتا؛ اور حق وقتی طور پر تنہا ہو سکتا ہے، مگر مغلوب نہیں ہو سکتا۔
آج عاشورا ہمیں صرف غم نہیں دیتا، ایک معیار بھی دیتا ہے۔ اگر آج بھی طاقتور کمزور کو کچل رہا ہے، اگر آج بھی حق مفاد کے ہاتھوں ذبح ہو رہا ہے، اگر آج بھی ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کی جا رہی ہے، تو سمجھ لیجیے کہ کربلا صرف تاریخ میں نہیں، ہمارے عہد میں بھی زندہ ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر آنسو بہانا آسان ہے، مگر ان کے موقف کی قیمت ادا کرنا مشکل ہے۔ ان کی مظلومیت پر گفتگو کرنا آسان ہے، مگر اپنے وقت کے باطل کے سامنے کلمۂ حق کہنا مشکل ہے۔
عاشورا صرف گریہ کا دن نہیں، احتساب کا دن بھی ہے۔
یہ صرف ایک غم نہیں، ایک معیار بھی ہے۔
یہ صرف ایک یاد نہیں، ایک پیغام بھی ہے۔
کیا امت اپنے ہی نبیؐ کے نواسے کے قاتلوں کو بھول سکتی ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا وہ بھی امتِ رسولؐ میں شمار ہو سکتا ہے جو اپنے ہی نبی کے اہلِ بیت پر تلوار اٹھائے؟ کیا وہ ہاتھ مسلمان کہلا سکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے “ریحانوں” کے خون سے رنگین ہوں؟ اور کیا وہ دل ایمان کے امین ہو سکتے ہیں جن میں اہلِبیتِ رسولؐ کی حرمت نہ ہو؟۔
کوفہ سے خطوط لکھے گئے، وفاداری کے وعدے کیے، نصرت کی امید دلائی؛ مگر جب حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے کا وقت آیا تو بہت سے ضمیر خوف کے ہاتھ بک گئے، بہت سی زبانیں خاموش ہو گئیں، اور بہت سے قدم پیچھے ہٹ گئے۔ یہی کربلا کا اصل زخم ہے
حسینؓ کی شہادت کے ساتھ امت کی بے وفائی۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کا قیام اقتدار کے لیے نہیں تھا۔ وہ تخت کے لیے نہیں، حق کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ وہ دنیا لینے نہیں نکلے تھے، بلکہ امت کو یہ بتانے نکلے تھے کہ جب دین کی روح کو پامال کیا جا رہا ہو، جب ظلم اقتدار کی صورت میں مسلط ہو، جب خاموشی باطل کی مددگار بن جائے، تو پھر ایک مومن کے لیے حسینؓ کا راستہ ہی اصل راستہ ہے۔ کربلا نے یہ سکھایا کہ مسلمان کی اصل طاقت اس کے لشکر میں نہیں، اس کے اصول میں ہوتی ہے؛ اس کی اصل قوت تعداد میں نہیں، سچائی میں ہوتی ہے۔
فرات کنارے بہہ رہا تھا مگر نواسۂ رسولؐ کے خیموں پر پانی بند تھا۔ معصوم بچے پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ اہلِ بیتِ اطہار کے خیموں میں صبر اور اذیت ساتھ ساتھ اتر رہے تھے۔ ایک ایک کر کے جاں نثار قربان ہو رہے تھے، اور آخرکار امامِ عالی مقام تنہا رہ گئے۔ مگر اس تنہائی میں بھی ان کے موقف کی عظمت کم نہ ہوئی۔ بظاہر طاقت دوسری طرف تھی، مگر وقار حسینؓ کے ساتھ تھا۔ بظاہر لشکر دوسری طرف تھا، مگر حق کا پرچم حسینؓ کے ہاتھ میں تھا۔ بظاہر سر کٹ گیا، مگر موقف زندہ رہا۔ خیمے جل گئے، مگر پیغام بجھ نہ سکا۔
اہلِ سنت کا عقیدہ بالکل واضح ہے:
ہم اہلِ بیتِ اطہار سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔
ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت کے قائل ہیں۔
ہم ان کی شہادت کو عظیم ظلم سمجھتے ہیں۔
اور ہم ان کے قاتلوں، ان کے ظلم کے مددگاروں اور اس ظلم پر راضی رہنے والوں کے فعل سے براءت کرتے ہیں۔
اسی کے ساتھ ہم صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادب و احترام کو بھی ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے حق کا راستہ یہی ہے کہ اہلِ بیت سے محبت بھی ہو، صحابہ کا احترام بھی ہو، اور ظلم سے بے لاگ نفرت بھی ہو۔
لیکن آج عاشورا کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کربلا میں کیا ہوا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کربلا سے کیا سیکھا؟
اگر آج بھی طاقتور کمزور کو کچل رہا ہے،
اگر آج بھی حق مفاد کے ہاتھوں ذبح ہو رہا ہے،
اگر آج بھی مذہب کے نام پر ظلم کے ساتھ کھڑا ہوا جا رہا ہے،
اگر آج بھی ضمیر مصلحت کے ہاتھ فروخت ہو رہا ہے،
تو پھر جان لیجیے کہ کربلا صرف تاریخ میں نہیں، ہمارے عہد میں بھی برپا ہے۔
عاشورا صرف گریہ کا دن نہیں، یہ احتساب کا دن بھی ہے۔
یہ صرف ایک غم نہیں، ایک معیار بھی ہے۔
یہ صرف ایک یاد نہیں، ایک سوال بھی ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر آنسو بہانا آسان ہے، مگر ان کے موقف کی قیمت ادا کرنا مشکل ہے۔
ان کی مظلومیت پر تقریر کرنا آسان ہے، مگر اپنے وقت کے باطل کے سامنے کلمۂ حق کہنا مشکل ہے۔
ان کے مصائب پر اشک بہانا آسان ہے، مگر اپنے مفاد کے خلاف جا کر انصاف کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں صرف شہادت نہیں دی، امت کے لیے ایک ابدی آئینہ چھوڑا۔ اس آئینے میں ہر دور اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ اس میں ظالم اپنا ظلم دیکھ سکتا ہے، بزدل اپنی خاموشی دیکھ سکتا ہے، مفاد پرست اپنی مصلحت دیکھ سکتا ہے، اور صاحبِ ایمان اپنی ذمہ داری دیکھ سکتا ہے۔
حسینؓ نے اپنے خون سے یہ لکھ دیا کہ باطل وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر سرخرو نہیں ہو سکتا، اور حق وقتی طور پر تنہا ہو سکتا ہے مگر مغلوب نہیں ہو سکتا۔
نیزے سر کو جھکا سکتے ہیں، موقف کو نہیں۔
خیمے جلا سکتے ہیں، پیغام کو نہیں۔
لاشوں کو روند سکتے ہیں، مگر سچائی کے سفر کو روک نہیں سکتے۔
اور اگر تم نے حسینؓ کو سمجھ لیا، تو پھر ظلم کے ہر عہد میں تمہارا قبلہ حق ہوگا، چاہے تم تنہا ہی کیوں نہ رہ جاؤ۔
یوم عاشور۔۔۔امت کے نام ایک بے چین سوال
آج یوم عاشور محرم الحرام ہے۔
اور عاشورا صرف ایک دن نہیں۔
یہ امت کے سینے میں رکھا ہوا ایک جلتا ہوا سوال ہے۔
کیا وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ہو سکتا ہے
جو اپنے ہی نبی کے نواسے پر تلوار اٹھائے؟
جو اہلِ بیتِ رسولؐ کے خیموں کو گھیر لے؟
جو فرات کے کنارے پانی بہتا دیکھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے بچوں پر پانی بند کر دے؟
یہ صرف تاریخ نہیں۔
یہ امت کے ضمیر کا امتحان ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کون تھے؟
وہ صرف ایک نام نہیں تھے۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے تھے۔
وہ سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر تھے۔
وہ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزند تھے۔
وہ اس گھر کے چراغ تھے جس گھر میں جبریل اترتے تھے۔جس کے لیے آغوشِ نبوت کھلی ہو
جسے نبیؐ نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہو،
اس کے سامنے تلواریں کیسے اٹھیں؟
وہ ہاتھ کیسے نہ کانپے؟
وہ دل کیسے نہ پھٹے؟
وہ زبانیں کیسے خاموش رہیں؟
کربلا کا سب سے بڑا المیہ صرف یہ نہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ انہیں شہید کرنے والے کوئی باہر کے دشمن نہیں تھے۔
وہ اندر کے لوگ تھے۔
وہ نام کے مسلمان تھے۔
وہ اسی امت کے دعوے دار تھے۔
یہی عاشورا کا سب سے خوفناک پہلو ہے۔
ظلم جب باہر سے آئے تو پہچان آسان ہوتی ہے۔
مگر جب ظلم دین کا لباس پہن لے…
جب باطل تسبیح ہاتھ میں لے لے…
جب جبر مذہبی نعرے لگا کر آئے…
تو پھر بہت سے لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں۔
کوفہ نے بلایا۔
خط لکھے۔
وفاداری کے وعدے کیے۔
نصرت کے دعوے کیے۔
مگر جب حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے کا وقت آیا
تو بہت سے ضمیر خوف کے ہاتھ بک گئے۔
بہت سی زبانیں خاموش ہو گئیں۔
بہت سے قدم پیچھے ہٹ گئے۔
یہی کربلا ہے۔
حسینؓ کی شہادت…
اور امت کی بے وفائی۔
امام حسین رضی اللہ عنہ اقتدار کے لیے نہیں نکلے تھے۔
وہ تخت کے لیے نہیں کھڑے ہوئے تھے۔
وہ حق کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔
وہ اس لیے اٹھے تھے کہ امت جان لے:
جب ظلم حکومت بن جائے،
جب باطل نظام بن جائے،
جب خاموشی مصلحت کہلانے لگے،
تو پھر حسینؓ کا راستہ ہی ایمان کا راستہ ہوتا ہے۔
فرات بہہ رہا تھا…
مگر خیموں میں پیاس تھی۔
بچے تڑپ رہے تھے…
مائیں بے بس تھیں…
ساتھی ایک ایک کر کے کٹتے جا رہے تھے…
اور آخر میں حسینؓ تنہا رہ گئے۔
مگر سنو—
تنہا ہونے سے حق چھوٹا نہیں ہو جاتا۔
پیاسا ہونے سے موقف کمزور نہیں ہو جاتا۔
شہید ہو جانے سے سچ ہار نہیں جاتا۔
سر کٹ گیا…
مگر حق نہیں جھکا۔
خیمے جل گئے…
مگر پیغام نہیں بجھا۔
لاشے روند دیے گئے…
مگر کربلا قیامت تک زندہ ہو گئی۔
آج سوال یہ نہیں کہ کربلا میں کیا ہوا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کربلا سے کیا سیکھا؟
اگر آج بھی
طاقتور کمزور کو روند رہا ہے…
حق مفاد کے ہاتھوں ذبح ہو رہا ہے…
مذہب کے نام پر ظلم کیا جا رہا ہے…
اور ہم خاموش ہیں…
تو پھر جان لیجیے:
کربلا ختم نہیں ہوئی۔
کربلا آج بھی زندہ ہے۔
شاید ہمارے اندر۔
شاید ہمارے معاشرے میں۔
شاید ہماری خاموشی میں۔
عاشورا صرف ماتم کا دن نہیں۔
یہ محاسبہ کا دن ہے۔
یہ ضمیر جگانے کا دن ہے۔
یہ اپنے اندر کے کوفے تلاش کرنے کا دن ہے۔
وہ کوفے جو وعدے کرتے ہیں مگر نبھاتے نہیں…
وہ ضمیر جو حق کو پہچانتے ہیں مگر بولتے نہیں…
وہ دل جو اہلِ بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ظلم کے ساتھ سمجھوتہ بھی کر لیتے ہیں۔
یاد رکھو—
امام حسین رضی اللہ عنہ نے صرف شہادت نہیں دی،
امت کو ایک آئینہ دے گئے۔
اس آئینے میں ہر شخص اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے:
ظالم اپنا ظلم،
بزدل اپنی خاموشی،
مفاد پرست اپنی مصلحت،
اور مومن اپنی ذمہ داری۔
حسینؓ نے اپنے خون سے لکھ دیا:
باطل وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر سرخرو نہیں ہو سکتا۔
حق وقتی طور پر تنہا ہو سکتا ہے، مگر مغلوب نہیں ہو سکتا۔
نیزے سر کو جھکا سکتے ہیں، موقف کو نہیں۔
آگ خیمے جلا سکتی ہے، پیغام کو نہیں۔
قتل جسم کو خاموش کر سکتا ہے، سچ کو نہیں۔
اور عاشورا کی سب سے آخری صدا شاید یہی ہے:
اگر تم نے حسینؓ کو صرف رویا اور سمجھا نہیں،
تو تم نے عاشورا کھو دیا۔
اور اگر تم نے حسینؓ کو سمجھ لیا،
تو پھر ظلم کے ہر دور میں تمہارا دل حسینؓ کے ساتھ ہوگا،
تمہاری زبان حق کے ساتھ ہوگی،
اور تمہارا قدم باطل کے سامنے جھکے گا نہیں—
چاہے تم تنہا ہی کیوں نہ رہ جاؤ۔
وماتوفیقی إلا باللہ۔۔۔ طالب دعا: رشید احمد گبارو