
تحریر :رشید احمد گبارو مورخہ 17 نومبر 2025
زندگی ایک مسلسل سفر ہے—کبھی ہموار، کبھی پرپیچ۔ اس میں ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب راستے روشن دکھائی دیتے ہیں، اور ایسے موڑ بھی آتے ہیں جہاں انسان اپنے ہی سائے کو بے وفا سمجھنے لگتا ہے۔ مگر اس سفر میں کچھ اصول ایسے ہیں جنہیں سمجھ لیا جائے تو دل ہلکا، ذہن واضح، اور زندگی سکون کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔
کسی شخص پر حد سے زیادہ انحصار مت کریں۔ ضرورت سے زیادہ وابستگی توقعات کو جنم دیتی ہے، اور توقعات اکثر دل آزاری کا سبب بنتی ہیں۔اس حقیقت کو کبھی نہ بھولیں کہ دنیا میں کوئی ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتا۔ رشتوں کی حرارت اور فاصلہ دونوں وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔دوستیاں بھی وقت کی لہروں کی طرح ہیں — آج جو قریب ہے، کل دور بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے دل کا دروازہ کھلا رکھیں مگر سوچ کے ساتھ۔اپنے رازوں کو سنبھال کر رکھیں۔ یہ وہ گولیاں ہیں جو اگر کسی غلط شخص تک پہنچ جائیں تو ایک دن وہی آپ کے خلاف چل سکتی ہیں۔زندگی میں تین سہارے ایسے ہیں جو کبھی دھوکا نہیں دیتے:آپ کے وسائل، آپ کی صحت، اور سب سے بڑھ کر آپ کا رب۔انہی پر بھروسا رکھیں۔اپنی ضروریات، کمزوریاں اور ذاتی معاملات ہر کسی کے سامنے نہ کھولیں۔ خاموشی بہت سی الجھنوں سے بچا لیتی ہے۔ہر مسکراہٹ خلوص کی دلیل نہیں ہوتی۔ لوگ اکثر رسمی تعلقات نبھانے کے لیے بھی مسکرا کر بات کرتے ہیں۔منہ پر تعریف کہہ دینے سے محبت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ الفاظ اکثر محض گفتگو کا لسانی تکلف ہوتے ہیں۔اپنی ذات کا خیال رکھیں۔ خوشی کو اپنے دل اور ذہن کا حصہ بنائیں، یہی اندرونی آسرا سب سے مضبوط ہوتا ہے۔کبھی کبھی ہلکا سا بے فکری کا لمس بھی ضروری ہے۔ صرف عقل پر چلنے والے لوگ زندگی کا لطف جلد کھو دیتے ہیں۔اپنے شوق اور مشاغل کی قدر کریں۔ چاہے یہ دوسروں کو معمولی لگیں، لیکن یہ آپ کی روح کی غذا ہوتے ہیں۔اپنے لیے سہارے ڈھونڈنے کی عادت چھوڑ دیں۔ مضبوط وہ ہے جو گر کر بھی اپنے قدموں پر کھڑا ہونا جانتا ہو۔اگر آپ دوسروں کے ساتھ مہربان ہیں تو یہ مت سوچیں کہ دنیا بھی آپ کے ساتھ اسی سلوک کا جواب دے گی۔ نیکی کی جزا ہمیشہ انسانوں سے نہیں، خدا سے ملتی ہے۔ایک دن آپ جان لیں گے کہ آپ اپنی سوچ سے زیادہ غم اور فکروں میں مبتلا رہتے تھے، اور اللہ نے آپ کے لیے وہ نعمتیں لکھ رکھی تھیں جن کا کبھی خیال بھی نہ تھا۔اور سب سے بڑھ کر یاد رکھیں:
انسان اس دنیا میں محض سانس لینے کے لیے نہیں بھیجا گیا؛ اسے شعور عطا کیا گیا، حس دی گئی، آزمایش اور اختیار دیا گیا، تاکہ وہ اس کائنات کے بھید سمجھ کر اپنے رب کی طرف لوٹے۔ زندگی کا ہر دن، ہر قدم اور ہر تعلق انسان کو ایک نیا سبق دیتا ہے۔ مگر ان تمام تجربات کی تہہ میں کچھ اصول ایسے پوشیدہ ہیں جو انسان کو راہِ حق، راہِ سکون اور راہِ بصیرت دکھاتے ہیں۔
کسی انسان کو اپنا معبودِ باطن نہ بنائیں
قرآن کہتا ہے کہ “اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرو”۔جب انسان کسی پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے تو اسے وہ مقام عطا کر دیتا ہے جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔مخلوق عارضی ہے، اس کا سہارا بھی عارضی ہے، اور عارضی سہارے جب ٹوٹتے ہیں تو انسان بکھر جاتا ہے۔اصل سہارا صرف رب ہے، جو ’’لا یزال‘‘ ہے—جس کی پناہ کبھی کمی نہیں دکھاتی۔
دنیا کی رفاقتیں بہتے پانی کی طرح ہیں
ہر رشتہ، ہر تعلق، ہر محبت وقت کی لہروں پر قائم ہے۔کوئی ہمیشہ ساتھ نہیں دیتا، کیونکہ ’’ہمیشہ‘‘ کا لفظ صرف خدا کی صفت ہے۔اس لیے دل کو اس حقیقت سے مانوس رکھیں کہ لوگ آتے ہیں، ساتھ چلتے ہیں، اور پھر تقدیر انہیں اپنی اپنی سمت لے جاتی ہے۔
دوستی اور دشمنی تقدیر کے پردے میں چھپی آزمائشیں ہیں
انسان کے دل کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔جو شخص کل مخلص تھا، آج اجنبی بھی ہو سکتا ہے۔یہ سب انسان کو یہ سمجھانے کے لیے ہوتا ہے کہ محبت کا اصل مقام دل نہیں، رب کی رضا ہے۔
راز—انسان کی امانت اور اللہ کی عطا کردہ حکمت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “مشورہ مومن کی امانت ہے”۔راز بے احتیاطی سے ہر ایک کے سامنے رکھ دینا گویا اپنی تلوار دشمن کے ہاتھ میں تھما دینا ہے۔رازوں کی حفاظت، اللہ کی نعمتوں کی حفاظت ہے۔
تین سہارے خدا کے عطا کردہ ہیں: رزق، صحت اور ایمان
انسان کی جیب خالی ہو تو دنیا اس کی قدر نہیں کرتی؛انسان کی صحت کمزور ہو تو طاقت ور ارادے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں؛مگر ایمان—وہ ایسی دولت ہے جو ٹوٹے ہوئے انسان کو بھی نئے سرے سے زندہ کر دیتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ حقیقت کہ اللہ کبھی اپنے بھروسہ کرنے والوں کو بے سہار نہیں چھوڑتا۔
اپنی ضرورتیں ہر دل پر ظاہر نہ کریں
ہر دل رحمت کا ظرف نہیں رکھتا، اور ہر کان امانت کی امانت داری کا اہل نہیں ہوتا۔ضرورتیں اللہ کے سامنے پیش کی جائیں، انسانوں کے سامنے نہیں۔انسان سے امیدیں باندھنے والا اکثر مایوسی پاتا ہے، مگر اللہ سے مانگنے والا کبھی خالی نہیں لوٹتا۔
ہر مسکراہٹ دل کا آئینہ نہیں ہوتی
کائنات کے اکثر چہرے تبسم رکھتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں کتنے موسم چل رہے ہوتے ہیں—یہ صرف رب جانتا ہے۔لہٰذا ظاہری مسکراہٹ کو باطنی سچائی نہ سمجھیں۔
لفظوں کی مٹھاس اکثر دنیا داری ہوتی ہے، محبت نہیں
محبت عمل سے پہچانی جاتی ہے، نہ کہ میٹھے الفاظ سے۔تاریخ شاہد ہے کہ منافقین کی زبانیں سب سے زیادہ شیریں تھیں، مگر دل سب سے زیادہ کھوکھلے۔
اپنی ذات کی حفاظت، گویا اپنی روح کی حفاظت ہے
اسلام انسان کو خود کو اذیت دینے سے منع کرتا ہے۔خوشی کو اپنے اندر پیدا کرنا، نفس کا تزکیہ ہے۔جو خوشیاں انسان دوسروں سے مانگتا ہے، وہ ہمیشہ ادھوری رہتی ہیں؛جو اللہ سے مانگتا ہے، وہ کبھی محروم نہیں ہوتا۔
بے فکری کا لمحہ انسان کو دنیا کی قید سے آزاد کرتا ہے
سختی میں جینا عبادت ہے، مگر ہر لمحہ سختی میں رہنا کمزوری۔دل کو کبھی کبھی ہلکا رکھنا بھی شکر کی ایک صورت ہے۔
شوق—اللہ کی عطا کردہ فطرت کا حصہ
ہر شوق جو انسان کے دل کو تازہ کرتا ہے، فطرتِ الٰہیہ کی جھلک ہے۔ان شوقوں کو زندہ رکھنا گویا اپنے اندر کی روشنی کو بھڑکائے رکھنا ہے۔
سہاروں پر جینے والا ہمیشہ ڈگمگاتا رہتا ہے
اسلام انسان کو توکل سکھاتا ہے۔سہاروں پر انحصار انسان کو بے بس کر دیتا ہے،مگر توکل انسان کو پہاڑوں کی طرح مضبوط کر دیتا ہے۔
نیکی کا جواب انسان سے نہیں، اللہ کی طرف سے ملتا ہے
لوگوں سے مہربانی کی توقع نہ رکھیں۔اللہ فرماتا ہے: “ہم نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں دیتے”۔دنیا کے لوگ بھول جاتے ہیں، مگر خدا کبھی نہیں بھولتا۔
اللہ کی تدبیر انسان کی تقدیر سے بہتر ہے
وقت گزر جانے پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے اپنے غموں میں بہت سا وقت ضائع کیا،جبکہ اللہ نے پردے کے پیچھے ایسے راستے بھی رکھے تھے جن کی اُس نے دعا بھی نہ کی تھی۔
انسان کو جب ضرورت پیش آتی ہے، تب دنیا کا خلوص بدل جاتا ہے
یہ دنیا کا سب سے گہرا فلسفہ ہے کہضرورت کے وقت انسان کو وہ محبت، وہ جواب اور وہ خلوص نہیں ملتا جو ماضی کے بے لوث دنوں میں ملتا تھا۔جب تک انسان مضبوط ہو، لوگ اس کے گرد جمع رہتے ہیں؛مگر کمزوری کے لمحے میں اکثر لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔یہی لمحہ سکھاتا ہے کہ خلوص مخلوق کی فطرت نہیں، صرف خالق کی صفت ہے۔لہٰذا ضرورتیں انسانوں کے دروازے پر نہیں، رب کے حضور رکھی جائیں۔
والدین—زمین پر اللہ کی رحمت کے سب سے روشن چہرے
والدین کا رشتہ روحانی بھی ہے، تقدیری بھی اور خدا کی رحمت کا مظہر بھی۔دنیا کی ہر محبت میں کمی آ سکتی ہے مگر والدین کی محبت میں نہیں۔ہر والدین کی تمنا ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ان سے بڑھ کر کامیاب ہو، ان سے بڑھ کر جیے،اور وہ منزلیں دیکھے جن کا خواب والدین نے کبھی اپنی آنکھوں میں رکھا تھا۔ان کی دعائیں زمین پر ٹھہرے ہوئے فرشتوں جیسی ہوتی ہیں—خاموش، مگر اثر رکھتی ہوئی؛بے صدا، مگر تقدیر بدل دینے والی۔جو اولاد والدین کی رضا اور دعا کو اپنا سرمایہ بنا لیتی ہے،خدا اس کے قدموں کے نیچے ایسی راہیں کھول دیتا ہےجن تک پہنچنا صرف کوشش سے ممکن نہیں ہوتا—بلکہ رحمت کے دروازے کھلنے سے ہوتا ہے۔
وماتوفیقی إلا باللہ۔۔ وللہ اعلم بالصواب۔ طالب دعا : رشید احمد گبارو